واضح رہے کہ آدمی شرعا مسافر اس وقت شمار ہوتا ہے، جب وہ اپنے علاقے یا گاؤں سے اڑتالیس میل یا اس سے زیادہ کا قصد کرے تو جیسے ہی وہ اپنی آبادی سے نکل جائے تو اس پر سفر کے احکام جاری ہوں گے۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی سیا ح اپنے علاقے یا گاؤں سے چلنے کے وقت اڑتالیس میل یا اس سے زائد سفر کا قصد کرے تو ایسی صورت میں وہ مسافر شمار ہوگا۔ اس کے ذمہ قصر نماز پڑھنا لازم ہو گا۔ اور اگر سیاح جگہ سے چلنے کے وقت سے اڑتالیس میل یا اس سے زائد کے سفر کا قصد کرے لیکن کسی جگہ پہنچ کر پندرہ روز یا زائد قیام کا قصد کرے، تو اس صورت میں وہ اپنی نماز پوری پڑھے گا۔ (من خرج من عمارة موضع إقامته) (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) (صلى الفرض الرباعي ركعتين) (حتى يدخل موضع مقامه) (أو ينوي) (إقامة نصف شهر) (رد المحتار مع الدر المختار، باب صلاۃ المسافر، ج: 2، ص: 121- 125) من جاوز بيوت مصره مريدًا أي قاصدًا نبه بذلك على أنه لو طاف الدنيا من غير قصد إلى قطع المسافة لا يترخص،سيرًا وسطًا ثلاثة أيام في بر، أو بحر، أو جبل، قصر الفرض الرباعي، فلو أتم وقعد في الثانية صح وإلا لا حتى يدخل مصره، أو ينوي إقامة نصف شهر ببلد أو قرية وقصر إن نوى أقل منه، أو لم ينو وبقي سنين۔ (النهر الفائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج:1، ص: 344 ۔ 347) قال رحمه الله: من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي فلو أتم وقعد في الثانية صح وإلا لا، حتى يدخل مصره أو ينوي إقامة نصف شهر ببلد أو قرية. وقصر إن نوى أقل منه أو لم ينو وبقي سنين (کنز الدقائق) وفي التبيين: ثم كلامه يتضمن أشياء أحدها - بيان موضع يبتدأ فيه بالقصر والثاني - بيان اشتراط قصر السفر، والثالث- بيان قدر مسافته والرابع- تحتم القصر فيه أما الأول فإنه يقصر إذا فارق بيوت المصروأما الثاني وهو بيان اشتراط قصد السفر فلا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبدا، ولو طاف الدنيا جميعها…. وأما الثالث- وهو بيان مسافة السفر فقد قال أصحابنا أقل مسافة تتغير فيها الأحكام مسيرة ثلاثة أيام بسير متوسط، وهو سير الإبل ومشي الأقدام في أقصر أيام السنة۔ (تبيين الحقائق، كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج: 1، ص: 209 ۔ 213) فتویٰ نمبر : 10806/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 کتاب الصلوۃ مسافرکی نماز
سیاح کا مسلسل سفر میں رہنے سے اتمام یا قصر نماز پڑھنا
Question
اگر کوئی آدمی برابر کئی سالوں سے سیاحی کرتا ہے آج اس گاؤں میں کل کسی دوسرے گاؤں میں رہتا ہے تو ایسا آدمی ہمیشہ قصر پڑھے گا یا نہیں؟
Answer
Related Fatwas
ذاتی مال میں بہن بھائیوں کا حصہ
اگر کوئی شخص والد صاحب کی زندگی میں اپنی محنت و کمائی سے کاروبار شروع کرے اور اسی کاروبار کی رقم سے…
مسجد کے لیے چندہ دے کر واپس لینا
اگر کسی علاقے میں مسجد کی تعمیر جاری ہو، اور ایک شخص اس میں بطورِ چندہ پیسے دے دے، لیکن تعمیر مکمل…
بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو تو کیا وہ اس عورت کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے…
نذر معین کو وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا
اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں اس آنے والے اتوار کے دن روزہ رکھوں گا اور پھر اس نے اس اتوار…
ہندؤں کے ساتھ ایک محلے میں رہائش اختیار کرنا
میں ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کرتا ہوں۔ ان کی طرف سے جو سرکاری گھر ملا ہے، اس بلاک میں اوپر، نیچے…
پگڑی کی دکان خریدنے کا حکم
جس مارکیٹ میں میں کام کرتا ہوں وہ پگڑی کی مارکیٹ ہے، میں وہاں دکان خریدنا چاہ رہا ہوں، پوچھنا یہ تھا …