نذر معین کو وقت گزرنے کے بعد ادا کرنا

Reviewed Updated November 5, 2025 86

Question

اگر کوئی شخص نذر مانے کہ میں اس آنے والے اتوار کے دن روزہ رکھوں گا اور پھر اس نے اس اتوار کو نہ رکھا، توکیا  پھر اگلے اتوار کو رکھ سکتا ہے یا نہیں؟اور اس سے نذر پوری ہوجائے گی یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اوپر کسی عبادت مقصودہ کو لازم کردے ،تو یہ نذر کہلاتا ہے، اگر کسی عبادت بدنی کی نذر مانی جائے تو اس کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے ،البتہ عبادت کے لیے متعین کردہ مکان اور وقت کا اہتمام ضروری نہیں ہے ،اس لیے اگر کسی ایک دن روزہ رکھنے کی نذر مانی جائے  اور پھر دوسرے دن کا روزہ  رکھ لیا جائے ،تو بھی نذر پوری ہوجاتی ہے۔ صورت مسئولہ میں جب نذر میں متعین کردہ دن میں روزہ نہیں رکھا ،تو کسی بھی دن نذر کی نیت سے  روزہ رکھ کرنذر پوری ہوجائے گی۔   وألغينا تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير ‌فيجزئة ‌صوم ‌رجب ‌عن ‌نذره ‌صوم ‌شعبان وتجزئه صلاة ركعتين بمصر نذر أداءهما بمكة والتصدق بدرهم عن درهم عينه له والصرف لزيد الفقير بنذره لعمرو.(مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح،كتاب الصوم،باب ما يلزم الوفاء به،ص:263) فتویٰ نمبر : 10764/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy