دوسرے شخص سے ٹیسٹ دلوا کر نوکری حاصل کرنے والے کی تنخواہ

Reviewed Updated November 5, 2025 23

Question

زید اور عمرو دو بھائی ہیں، علاقے کی سطح پرایک سرکاری نوکری کا اشتہارجاری ہوا، عمرو نے باقاعدہ کاغذات جمع کیے، ٹیسٹ لینے کے لیے تاریخ مقرر ہوا، لیکن مقررہ تاریخ پر عمرو کی بجائے زید نے ٹیسٹ دیا اور اس ٹیسٹ میں کامیابی کے بنیاد پر عمرو کواس نوکری کے لیے اہل قرار دیا گیا۔ چونکہ عمرو بذاتِ خود ایک تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بندہ ہے، اور اس پوسٹ کے لیے تمام تر کوائف وشرائط پر پورا ہے، البتہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ازمائشی ٹیسٹ عام طور پراس پوسٹ پر کام کرنے والوں کی صلاحیت سے اوپر ہوتا ہے جس کی وجہ سے بعض امیدوار یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ کسی دوسرے سے ٹیسٹ دلوا دیتے ہیں۔ اب جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ : 1۔ کیا زید کے ٹیسٹ پا س کرنےپر عمرو  کے لیے حاصل شدہ نوکری جائز ہے؟ 2۔ کیا عمرو کے لیے صرف یہ غیر قانونی طریقہ فعل حرام تصور کیا جائے گا،یا اس نوکری سے حاصل ہونے والی تمام کمائی بھی حرام شمارہوگی؟

Answer

واضح رہے کہ حصولِ ملازمت کے امتحانات میں اپنی جگہ کسی دوسرے شخص سے امتحان یا ٹیسٹ دلوا دینا دھوکہ دہی، خیانت اورحق داروں کی حق تلفی جیسے گناہوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، لہٰذا ٹیسٹ دینے کے لیے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص کوبھیج کر ملازمت حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ البتہ اگرکسی نے اس طرح(یعنی کسی دوسرے سے ٹیسٹ دلوا کر) نوکری حاصل کرلی ہو، تو ایسی ملازمت سے ملنے والی تنخواہ کے حلال یا حرام  ہونے کےاصول یہ ہے کہ اگر وہ شخص اس ملازمت اور نوکری کی صلاحیت رکھتا ہو، اور اس کے تمام امور دیانت داری سے مطلوبہ معیار کے مطابق انجام دیتا ہو، توایسی صورت میں اس کی  تنخواہ حلال ہوگی۔ لیکن اگر وہ اس ملازمت کے تمام امور دیانت داری کے ساتھ انجام دینے کا اہل نہ ہو، تو پھر اس کی تنخواہ حلال نہیں ہوگی۔ صورتِ مسئولہ میں اگر عمرو نے ملازمت اور نوکری کے حصول کے لیے اپنی جگہ کسی دوسرے شخص سے ٹیسٹ دلوایا ہو، تو اس پر وہ جھوٹ اور دھوکہ دہی جیسے گناہوں کا مرتکب ہوا ہے، اس لیے اس پر سچے دل سےتوبہ کرے، البتہ اگرعمرو میں اس نوکری کی مفوضہ ذمہ داریوں کو انجام دینے کی صلاحیت موجود ہو، اور تمام ذمہ داریاں دیانت داری کے ساتھ ادا کرتا ہو، تو اس کے لیے اس نوکری سے ملنے والی تنخواہ حلال ہوگی۔ البتہ اگر اس میں اس نوکری کی صلاحیت نہ ہو، یا مفوضہ ذمہ داریوں کو دیانت داری کے ساتھ ادا نہ کرتا ہو، تو پھر اس کے لیےاس نوکری سے حاصل ہونے والی تنخواہ حلال نہ ہوگی۔   {إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها وإذا حكمتم بين الناس أن تحكموا بالعدل إن الله نعما يعظكم به إن الله كان سميعا بصيرا ‌‌(58) } ‌يخبر ‌تعالى ‌أنه ‌يأمر ‌بأداء ‌الأمانات ‌إلى ‌أهلها، وفي حديث الحسن، عن سمرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أد الأمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك". رواه الإمام أحمد وأهل السنن وهذا يعم جميع الأمانات الواجبة على الإنسان، من حقوق الله.....ومن حقوق العباد بعضهم على بعض كالودائع وغير ذلك مما يأتمنون به بعضهم على بعض من غير اطلاع بينة على ذلك. فأمر الله، عز وجل، بأدائها، فمن لم يفعل ذلك في الدنيا أخذ منه ذلك يوم القيامة. (تفسير ابن كثير، سورة النساء، آية:58، ج:2، ص:338) ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني متى تجب الأجرة، ج:4، ص:413) فتویٰ نمبر : 3952/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy