اجرت متعین نہ ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم

Reviewed Updated October 2, 2025 30

Question

ایک شخص نے اپنی کار موٹر شوروم والے کے حوالہ کیا کہ اسے پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کردو، اس سے زیادہ پر فروخت ہونے کی صورت میں بقیہ نفع آپ کا ہے ، اس کا شرعی حل کیا ہے ؟

Answer

واضح رہے کہ جب  کسی چیز کے فروخت کے لئے معاوضہ پر وکیل مقرر کیا جائےتو  ضروری ہے کہ اس کا معاوضہ متعین اور معلوم ہو، کیونکہ اجرت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے معاملہ فاسد ہو جاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں کسی کا اپنی کار موٹر شوروم والاکے حوالہ کرکے اس سے یہ کہنا کہ 5000 ہزار ڈالر سے جتنا زیادہ میں بیچ دیا وہ منافع تمہارا ہو گا، اس میں چونکہ اجرت مجہول ہے کیونکہ معلوم نہیں کہ شوروم والا اس کو کتنے پر فروخت کرے گا اس وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں، البتہ جواز کی یہ صورت ہے کہ شوروم والےکے لیے اجرت متعین کردی جائے۔   دفع ثوبا إليه وقال بعه بعشرة فما زاد فهو بيني وبينك قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - إن باعه بعشرة أو لم يبعه فلا أجر له وإن تعب له في ذلك، ولو باعه باثني عشر أو أكثر فله أجر مثل عمله وعليه الفتوى. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج 4، ص: 451) إذا شرطت الأجرة في الوكالة وأوفاها الوكيل استحق الأجرة، وإن لم تشترط ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعاء فليس له أن يطالب بالأجرة يستحق في الإجارة الصحيحة الأجرة المسمى. وفي الفاسدة أجر المثل ... لكن إذا لم يشترط في الوكالة أجرة ولم يكن الوكيل ممن يخدم بالأجرة كان متبرعا، وليس له أن يطلب أجرة. أما إذا كان ممن يخدم بالأجرة يأخذ أجر المثل ولو لم تشترط له أجرة. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ، كتاب الوكالة، الباب الثالث، الفصل الأول ، ج 3، ص:573) والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان وجملة الكلام فيه. (بدائع الصنائع ، كتاب الإجارة، فصل في شرائط ركن الإجارة، ج 4، ص: 194) فتویٰ نمبر : 3943/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy