نفاس کا خون چالیس دن کے بعد بھی آنا

Reviewed Updated September 29, 2025 25

Question

اگر کسی خاتون کا بچہ پیدا ہوجائے اور چالیس دن گزر جائیں اور عورت کا خون اب بھی جاری ہو، تو کیا ایسی صورت میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اگر خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہے تو یہ استحاضہ کا خون شمار ہوگا اس صورت میں عورت پر نماز پڑھنا لازم ہوگا۔ لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ عورت کا خون چالیس دن کے بعد بھی جاری رہے تو اس صورت میں یہ خون استحاضہ کا شمار ہوگا چنانچہ اس عورت پر لازم ہوگا وہ غسل کرکے ان دنوں کی نماز پڑھے اور ہر نماز کے لیے وضو کرتی رہے اگر کسی عذر کی بنا پر نہ پڑھ سکے تو بعد میں ان دنوں کی نمازوں کی قضا اس کے ذمہ لازم ہوگی۔   أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوى، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط۔ (الفتاوی الھندیة كتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الثاني في النفاس، ج: 1، ص:  37)  (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتًا كاملًا (لا يمنع صومًا وصلاةً) ولو نفلًا (وجماعًا) لحديث؛ توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير. (قوله: لايمنع صومًا إلخ) أي ولا قراءة ومس مصحف ودخول مسجد وكذا لا تمنع عن الطواف إذا أمنت من اللوث قهستاني عن الخزانة ...(قوله: لحديث توضئي) فإنه ثبت به حكم الصلاة عبارة، وحكم الصوم والجماع دلالة اهـ منح ودرر وإبدال الدلالة بالإشارة لا يخفى ما فيه على من له معرفة بالأصول فافهم۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ‌‌كتاب الطهارة، ‌‌باب الحيض، ج: 1، ص: 298) فتویٰ نمبر : 10724/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الطّہارۃ نفاس کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy