بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلى ونسلم عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ وَعَلَى آلِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَ أَصْحَابِهِ وَ اتبَاعِهِ أَجْمَعِينَ
عشرہ ذی الحجہ اسلامی سال کے بابرکت ترین ایام میں سے ہیں۔ یہ وہ مبارک دن ہیں جن میں نیک اعمال کا اجر و ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ان ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن اعمال کی ہدایت فرمائی ہے، وہ ایک مسلمان کے لیے اللہ کی قربت حاصل کرنے اور اجرِ عظیم کمانے کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
ذکر اللہ کی اہمیت اور فضیلت
عشرہ ذی الحجہ میں سب سے زیادہ ذکر اللہ پر زور دیا گیا ہے۔ یہ ایام تسبیح و تحلیل اور تکبیر و تحمید کی کثرت کے لیے خاص ہیں۔
حدیث: ان (ذو الحجہ کے پہلے دس دنوں) میں لَا إِلَهَ إِلَّا الله، الْحَمْدُ لِلَّهِ، اللهُ اکبر اور سُبْحَانَ اللہ کی کثرت کیا کرو۔
الدعاء للطبرانی، باب القول في ايام العشر: 871 (اسناده جيد)
مزید مسنون دعائیں سیکھیں
مزید فضائل
- حدیث: ”یہ (مذکورہ) کلمات میزان میں بھاری ہیں“۔ مستدرک حاکم، کتاب الدعاء والتكبير التهليل واتسبيح والذكر: 1885 (إسناده صحیح)
- حدیث: ہر ایک کے بدلہ میں جنت میں درخت لگتا ہے۔ سنن ابن ماجه، باب فضل التسبیح: 3807 (اسناده حسن)
- حدیث: “گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔” طبرانی کبیر، سعد بن جنادة العوفى كان ينزل الكوفة : 5484 (اسناده ضعیف)
- حدیث: “سُبْحَانَ اللہ آدھے میزان کو بھر دیتا ہے اور الْحَمدُ لِلہ پورے میزان کو بھر دیتا ہے اور الله اکبر آسمان و زمین کے درمیان کے خلا کو بھر دیتا ہے۔” مسند احمد، حدیث ابی مالک الاشعری : 22902 (حدیث صحیح)
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بابرکت کلمات کی فضیلت بہت زیادہ ہے، جو نہ صرف آخرت کے میزان کو بھاری کرتا ہے بلکہ جنت میں درجات کو بھی بلند کرنے کا سبب ہے۔
ناخن اور بال نہ کاٹنا (قربانی کرنے والے کے لیے)
عشرہ ذی الحجہ میں قربانی کرنے والوں کے لیے ایک خاص عمل ناخن اور بال نہ کاٹنا ہے۔
حدیث: جب ذو الحجہ کے پہلے دس دن ہوں اور آدمی قربانی کرنا چاہتا ہو تو وہ اپنے بال اور ناخنوں کو ہاتھ نہ لگائے (نہ کاٹے)۔
صحیح مسلم، باب نهی من دخل عليه عشر ذی الحجه وهو مريد التضحية : 1977
وضاحت
ان دنوں میں ناخن اور بال نہ کاٹنا صرف مستحب ہے، لازمی نہیں ہے۔ یہ حکم اس لیے ہے تاکہ جو رحمت حاجیوں پر برسے گی، ان کی مشابہت اور نقل کرنے کی وجہ سے اس رحمت کا کچھ حصہ ہم پر بھی برس جائے۔ یہ حج سے مشابہت کا ایک خوبصورت پہلو ہے۔
دن کا روزہ اور رات کی عبادت
عشرہ ذی الحجہ کے دنوں میں روزہ رکھنا اور رات کی عبادت بھی بہت اجر و ثواب کا باعث ہے۔ ان ایام میں عبادات کی فضیلت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
حدیث: ان دنوں میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزہ رکھنے کے برابر ہے۔
سنن ترمذی، باب ما جاء في العمل في ايام العشر : 758 (اسناده ضعیف)
یوم عرفہ کا روزہ (9 ذی الحجہ)
یوم عرفہ کا روزہ ان ایام کی سب سے اہم عبادت میں سے ہے۔ یہ گناہوں کی مغفرت کا ایک عظیم موقع ہے۔
- حدیث: جس نے 9 ذی الحجہ کا روزہ رکھا اس کے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ سنن ابن ماجه، باب صیام یوم عرفہ : 1731 (صحیح لغیرہ)
- حدیث: 9 ذی الحجہ کے دن کا روزہ رکھنا ہزار دن کے روزوں کے برابر ہے۔ شعب الایمان، باب تخصیص ایام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد با عمل فیهن 3486 (اسناده ضعیف)
یہ روزے اللہ تعالیٰ کی رضا اور گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہیں۔
تکبیرات تشریق کی فضیلت اور وقت
تکبیرات تشریق عشرہ ذی الحجہ اور ایام تشریق کا ایک اہم شعار ہیں۔ یہ تکبیریں عید الاضحی کے موقع پر خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
تکبیرات تشریق کے الفاظ
اللهُ أَكْبَرَ اللهُ أَكْبَر لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرَ اللَّهُ أَكْبَر وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
ایام تشریق اور تکبیرات تشریق کا حکم
یہ 9 ذی الحجہ کی فجر سے 13 ذی الحجہ کی عصر تک تکبیرات تشریق ہر مسلمان مرد و عورت، نیز مسافر پر بھی ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہیں۔ مرد حضرات متوسط بلند آواز سے اور عورتیں آہستہ آواز سے پڑھیں۔
مصنف ابن ابی شیبہ، باب : الکبیر فی ای یوم ھو یعنی ای ساعت : 5631 (اسناد صحیح)
یہ تمام اعمال عشرہ ذی الحجہ کی بابرکت اور اہم گھڑیوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے بہترین ہیں۔ ان دس بابرکت دنوں میں نیک اعمال کو بڑھا کر ہم اپنے آخرت کے لیے بہترین زادِ راہ تیار کر سکتے ہیں۔