والدین کااپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا

Reviewed Updated May 3, 2026 31

Question

والدین اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ اولاد میں چار بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، جبکہ کل رقبہ 32.5 مرلے ہے۔ شرعی اعتبار سے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

Answer

واضح رہے اگر زندگی ہی میں کوئی شخص اپنا  مال تقسیم کرتا ہو تو یہ میراث نہیں بلکہ" ہبہ" ہوتاہے ،اس لیے والدین کے لیے افضل اور بہتر یہ ہے کہ اپنے مال کو اولاد کےدرمیان برابر حصوں میں  تقسیم کرے۔ لہذا صورت مسؤلہ میں اگر والدین اپنی زندگی میں اولاد کو مال دینا چاہتے ہوں تو بہتر یہ ہے کہ بیٹیوں کو بیٹوں  کے برابر حصہ دیں یا اگر بیٹوں کو بیٹیوں  سے دگنا حصہ دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ تا ہم بہتر یہ  ہے کہ زندگی میں سارا مال تقسیم نہ کیا جائےبلکہ اپنی ضروریات واخراجا ت کے لیے بھی ایک مناسب حصہ چھوڑ دیا جائےتاکہ کل کسی کا محتاج ہونا نہ پڑے۔   وينبغي ‌للرجل ‌أن ‌يعدل بين أولاده في النحلى.(بدائع الصنائع، كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج:6، ص:127) ‌وفي ‌الخانية ‌لا ‌بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى.(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الهبة، ج:5، ص:696) فتویٰ نمبر : 6627/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy