مخلوط اداروں میں تعلیم حاصل کرنا

Reviewed Updated November 4, 2025 54

سوال

آج کل اکثر سکول ،کالجوں اور یونیورسٹیوں لڑکے اورلڑکیاں ایک ہی کلاس میں اکھٹے پڑھتے ہیں جس کو "co-education"سے موسوم کیاجاتا ہے،ان میں پردے کا خاص اہتمام نہیں ہوتا،تو ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کرنا کیسا ہے ،جبکہ اس کا بہتر متبادل بھی نہ ہو اور اگر ہو بھی تو وہاں وہی  کورس نہیں پڑھایا جاتا ۔

جواب

واضح رہےکہ  اسلام نے اجنبی  عورتوں کو دیکھنے ،ان کے ساتھ غیر ضروری ملاقات کرنےاورمیل جول رکھنے سے منع فرمایا ہے،نیز    تعلیم حاصل کرنا فی نفسہ جائز اور مباح ہے،لیکن تعلیم کے حصول میں شرعی امور کی رعایت از حد ضروری ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق طالب علموں  کےلیے ضروری ہےکہ ایسےتعلیمی اداروں کا انتخاب کریں   جہاں مرد وعورتوں کا اختلاط نہ لیکن  اگر ایسا ادارہ میسر نہ ہواور مخلوط تعلیمی ادارے میں ہی تعلیم حاصل کرنا ناگزیر ہو تو درج ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے: 1۔ کسی بھی اجنبی عورت خواہ ٹیچر ہو یا طالبہ،  کے ساتھ اکیلے کمرے میں نہ رکے اور نہ ہی اکیلے ملاقات کرے۔ 2۔ کسی نامحرم خاتون کے چہرے کی طرف نگاہ  نہ کی جائے۔  3۔ صرف لڑکوں کے ساتھ پڑھائی سے متعلق بات چیت کی جائے۔ 4۔ مجبوراً کبھی کسی غیر محرم عورت سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائےتو  بوقتِ ضرورت بقدرِ ضرورت بات کرنا جائز ہے،  بلاضرورت جائز نہیں،نیز  ہنسی مزاح کرنے یا اس کا جواب دینے کی کوئی گنجائش نہیں ،بلکہ  سخت گناہ ہے۔ اور اگرکسی ادارے کے بارے میں  معلوم ہو کہ اُس میں ماحول بہت آزاد ہے جس کی وجہ سےگناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ غالب ہوتو وہاں سےہٹ جانا لازم ہے۔   قال الله تبارك وتعالى: ﴿قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ﴾ [النور: 30]  وقال تعالى: ﴿وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ﴾ [الأحزاب: 53]  وقال تعالى: ﴿يَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُورُ ﴾ [غافر: 19]  عن أنس، رضي الله تعالى عنه، قال: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في جنازة، فرأى نسوة فقال: أتحملنه؟ قلن: لا. قال: أتدفنه؟ قلن: لا. قال: فارجعن مأزورات غير مأجورات) . لأن الرجال أقوى لذلك والنساء ضعيفات ومظنة للانكشاف غالبا، خصوصا إذا باشرن الحمل، ‌ولأنهن ‌إذا ‌حملنها ‌مع ‌وجود ‌الرجال ‌لوقع ‌اختلاطهن ‌بالرجال، ‌وهو ‌محل ‌الفتنة ‌ومظنة ‌الفساد.(عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب الجنائز، باب حمل الرجال الجنازة دون النساء، ج: 8، ص: 111) ‌وإنما ‌فضل ‌آخر ‌صفوف ‌النساء ‌الحاضرات ‌مع ‌الرجال ‌لبعدهن من مخالطة الرجال ورؤيتهم وتعلق القلب بهم عند رؤية حركاتهم وسماع. (شرح النووي على مسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف وإقامتها، ج: 4، ص: 159) قال:  وينبغي ‌للقاضي ‌أن ‌يقدم ‌النساء ‌على ‌حدة ‌والرجال ‌على ‌حدة؛ ‌لأن ‌الناس يزدحمون في مجلسه، وفي اختلاط النساء مع الرجال عند الزحمة من الفتنة والقبح ما لا يخفى. (المبسوط للسرخسي، كتاب أدب القاضي، ج: 16، ص: 80) فتویٰ نمبر : 6519/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy