زیر ناف بالوں کے حدود

Reviewed Updated September 29, 2025 65

سوال

 ہم نے سنا ہے کہ شرمگاہ کے بال اگر چاول کے دانے سے بڑھ جائیں تو نماز نہیں ہوتی، دریا فت یہ کرنا ہے کہ  کولہوں کے بال بھی اس کے حکم میں داخل ہے یا نہیں ؟نیز زیرنا ف بالوں کے حدود کیا ہیں ؟

جواب

واضح رہے  کہ زیر ناف بالوں کی جو حد مقررہے وہ ناف کے نیچے سے لیکر رانوں کی جڑوں تک ہے،اسی طرح اعضائے مخصوصہ اور ان کے ارد گرد بالوں کو جن  کے گندہ ہونے کا خطرہ ہوتاہے صاف کرنا ضروری ہے ،کولہوں کے بالوں کو یہ حکم شامل  نہیں ہے ،اور ہر ہفتہ اس کی صفائی کرنا افضل ہے اور چالیس دن تک چھوڑنے کی گنجائش ہے اس سے زیادہ تاخیر کرنا گناہ ہے لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ شرمگاہ کے بال اگر چاو ل کے دانے سے بڑھ جائیں تو نماز نہیں ہوتی ۔   (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) ‌والأفضل ‌يوم ‌الجمعة، وجاز في كل خمسة عشرة، وكره تركه وراء الأربعين.(قوله وكره تركه) أي تحريما لقول المجتبى ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد.(رد المحتارعلي الدرالمختار،باب الأستبراء وغيره، ج: 6،ص: 407) ‌ثم ‌العانة ‌هي ‌الشعر ‌الذي فوق الذكر وحواليه وحوالي فرجها ويستحب إزالة شعر الدبر خوفا من أن يعلق به شيء من النجاسة الخارجة فلا يتمكن من إزالته بالاستجمار.(حاشية الطحطاوي،باب الجمعة ،ص:527) فتویٰ نمبر : 6458/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) بالوں کے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy