نذر معلق کو واقع ہونے سے پہلے تبدیل کرنا

Reviewed Updated January 9, 2026 22

Question

میں نے نذر مانی کہ میر افلاں کام ہو گیا تو میں 20 روزے رکھوں گا لیکن ابھی تک وہ کام نہیں ہوا ہے کہ میں نے دوبارہ کہا کہ میں 20 روزے نہیں رکھ سکتا بلکہ دس 10 روزے رکھوں گا اب آگر وہ کام ہو گیا تو میں کتنے روزے رکھوں گا؟

Answer

واضح رہے کہ جب کوئی شخص  نذر کو کسی  شرط کے ساتھ معلق کردے تو شرط کے موجود ہونے کے ساتھ نذر کی ادائیگی واجب ہوگی۔ صورتِ مسئولہ میں جس کام  کے ہونے پر 20 روزے رکھنے کی نذر مانی تھی،تو اس کام کے ہو جانےپر 20 روزے رکھنا ہی لازم ہے۔اس نذر میں تبدیلی نہیں کر سکتا۔   قال الله تعالى: ﴿ ‌وليوفوا نذورهم ﴾  [الحج: 29] (ومن نذر نذرا مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (‌ووجد ‌الشرط) ‌المعلق ‌به (‌لزم ‌الناذر) لحديث "من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى" (كصوم وصلاة وصدقة). ( رد المحتار، كتاب الأيمان، ج:3، ص:735 ) والنذر ‌في ‌معنى ‌الطلاق والعتاق؛ لأنه لا يحتمل الفسخ بعد وقوعه. ( البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري، كتاب الصوم، فصل ما يوجبه العبد على نفسه، ج:2، ص:319 ) والنذر...ولا يحتمل الفسخ بعد وقوعه، وعن علي رضي الله عنه قال: ثلاث لا لعب فيهن: الطلاق، والعتاق، والصدقة يعني النذر بالصدقة. ( المبسوط للسرخسي، كتاب الإكراه، ج:24، ص:42 ) فتویٰ نمبر : 6603/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-09 کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy