والد کی طرف سے بڑے بيٹے کو رقم ہبہ کرنا

Reviewed Updated October 7, 2025 70

سوال

ایک شخص نے اپنے بیٹے کو 5 لاکھ رقم ویزے کیلئے دی تھی اور دیتے وقت یہ الفاظ کہے تھے کہ اگر قرض سمجھ کر لے رہے ہو تو میں یہ رقم نہیں دوں گا، اور اگر باپ سمجھ کر لو گے تب دے دوں گا، اب اس شخص  کا انتقال ہو گیا ہے تو یہ 5 لاکھ رقم  اس کی وراثت ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے كه جب باپ اپنی زندگی میں بیٹے کو رقم یا کوئی اور چیز  ہبہ كرے، اور  اس کو قبضہ بھی دے دے تو قبضہ کے ساتھ وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق والد نے  بیٹے کو   جو 5 لاکھ  رقم ویزے کے لئے  دي تھی    اور والد نے صراحتاً کہا تھا  کہ یہ قرض نہیں ہےتو وہ والد صاحب کی طرف سے  ہبہ شمار ہوگا ،چنانچہ والد کی وفات کے بعد یہ رقم اس کی وراثت نہ ہوگی۔   أن القبض بمنزلة القبول في الهبة من حيث إنه يتوقف عليه ثبوت حكمه وهو الملك.(الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الهبة،ج:3،ص:222) أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غيرعوض.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:6،ص:127) (‌وتتم) ‌الهبة(بالقبض)الكامل.(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب الهبة،ج:5،ص:690) اذا توفي الواهب ،ليس لورثته استرداد الموهوب۔(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:872،ص:482) فتویٰ نمبر : 6499/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy