کرایہ دار کا مالک کی زمین پردکان بنا کرخرچ شدہ رقم کرایہ سے کاٹنا

Reviewed Updated September 27, 2025 43

Question

میں ایک شخص کے ایک مرلہ پلاٹ میں دکان تعمیر کروانا چاہتا ہوں، جس كا تمام تر خرچ میرے ذمہ ہوگا ،پلاٹ کے مالک اور میرے مابین یہ طے ہوا ہے کہ ہم ایک مقدار کرایہ کی طے کرلیں گے ، اس میں سے 25 یا30فی صد کرایہ اداکیا جائے گا ، بقیہ 70یا65   فی صد دکان کی تعمیراتی قیمت کی ادائیگی کے طور پر کٹوتی ہوتی رہے گی ، اس طرح بالآخر دکان بھی پلاٹ کے مالک کی ہو جائے گی اور کرایہ کی مقدار بھی بڑھا دی جائےگی، کیا اس طرح معاہدہ کرناجائز ہے؟

Answer

واضح رہے کہ جب مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ داراس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر تعمیرکرے اور جتنا خرچہ آئے، وہ مقررہ ماہانہ کرایہ سے اس وقت تک کاٹتا رہے، جب تک کرایہ دار کی خرچ کی ہوئی رقم مکمل نہ ہو تو اس کی دوصورتیں ہیں: 1۔ مالک زمین اپنی زمین کرایہ دار کو اجرت پر دے اور دونوں کے درمیان یہ معاہدہ ہو کہ کرایہ دار اس زمین میں اپنا سرمایہ لگا کر مالک زمین کے لیے تعمیر کرے گا، جتنا خرچہ آئےگا، وہ مالک زمین پر قرض ہوگا اور وصولی کی صورت یہ ہوگی کہ مقررہ ماہانہ کرایہ سےکرایہ دار عمارت پراپنی لگائی ہوئی رقم  اس وقت تک کاٹتا رہے گا، جب تک اس کی لگائی ہوئی رقم مکمل نہ ہو ،تو یہ صورت شرعاًجائز ہے۔ 2۔ مالک زمین کرایہ دار کو زمین اجرت پر دے اور اس زمین میں کرایہ دار اپنے سرمایہ سے اپنے لیے عمارت تعمیر کرے اور زمین کے مالک کو صرف زمین کا کرایہ دیتا رہے ایسی صورت میں عمارت کا مالک کرایہ دار ہوگا اس لیے  مالک زمین پر اس کا کوئی قرض نہیں ہوگا، چنانچہ کرایہ سے کچھ نہیں کاٹ سکتا ،تاہم  مدت اجارہ کے اختتام پر کرایہ دار اور مالک ِزمین باہم رضامندی سے  عمارت کی قیمت طے کریں اور مالک زمین وہ رقم کرایہ دار کو) یکمشت یا قسط وار)حوالہ کر کے عمارت کا بھی مالک بن جائےیا اگر قیمت پر اتفاق نہ ہوسکے تو کرایہ دار اپنی عمارت ہٹا کر مالکِ زمین کو زمین خالی کر کے دے دے۔ صورت مسؤلہ کے مطابق اگر سائل مالک زمین کے کہنے پراس کے لیے دکان تعمیر کرے اوراس پر خرچ ہونے والی رقم مالک پر قرض ہواور پھرطے شدہ کرایے سےوہ قرض منہا ہو،تو ایسی صورت میں دکان کی عمارت شروع سے ہی پلاٹ کے مالک کی ملکیت شمار ہوگی اوراس کی قیمت اس کے ذمےقرض ہوگی، جس کی ادائیگی باہم مفاہمت سے نقد یا قسط وارطے کی جا سکتی ہے۔   ‌إذا ‌استأجر ‌الرجل ‌من ‌آخر دارا بدين كان للمستأجر على الآجر يجوز. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، الباب الثاني فى بيان متي تجب الأجرة، ج:4، ص:446) تصح ‌إجارة ‌أرض (للبناء والغرس) وسائر الانتفاعات كطبخ آجر وخزف ومقيلا ومراحا حتى تلزم الأجرة بالتسليم أمكن زراعتها أم لا بحر. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الإجارة، ج:6، ص:31) ''قوله: و من بنى) ... (بغير إذنه) فلو بإذنه فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما انفق''. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الغصب، ج:9، ص:283)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy