اجازت ملنے کی صورت میں مملوك جنگل سے لکڑیاں لا کرآگے بیچنا

Reviewed Updated November 5, 2025 25

Question

ایک گاؤں والوں کا مشترکہ جنگل تھا جس کو ایک آدمی نے خرید لیا اور گاؤں والوں کو  جلانے کےلیے لکڑیاں لانے کی اجازت دی اگر گاؤں کا کوئی شخص لکڑیاں کاٹ کر گاؤں والوں میں سے کسی ایسے شخص کو جلانے کےلیے فروخت کرے جو خود لکڑیاں نہیں لا سکتا تو آیا اس کا فروخت کرنا درست ہے یا نہیں ؟

Answer

واضح رہے کہ کسی شخص کو متعینہ حدود کے اندر کسی کام کی اجازت دینا "اباحت" کہلاتا ہے،نیز مالک کی طرف سےاپنے مملوک مال میں سےکسی خاص تصرف کی اجازت ملنے کی صورت میں یہ تصرف اس خاص قسم کے تصرف کے ساتھ خاص ہوگی جس کی مالک اجازت دے،چنانچہ اجازت ملے ہوئے لوگوں(شرکاء الإباحۃ) کو اسی خاص قسم کے تصرف کے علاوہ دیگر تصرفات کی اجازت نہیں ہوگی۔ صورت مسئولہ کے مطابق جنگل کے مالک کی طرف سے اجازت ملنے کی وجہ سےمذکورہ جنگل سے ذاتی استعمال کے لیے لکڑیاں لےجانا جائز ہے لیکن لے جا کر بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ مالک نے جلانے کی اجازت دی ہے نہ کہ آگے فروخت کرنے کی ،البتہ جن کو اجازت ملی ہے ان میں سے کوئی شخص اگر خود لکڑیاں نہیں لاسکتا،اورکسی شخص کو اجرت کے عوض لکڑیاں لانے کا کہےاور وہ اجرت لے کر اس کےلیے لکڑیاں لائےتو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے۔   الإباحة: هي الإذن بإتيان الفعل كيف شاء الفاعل. (التعريفات، مادة: الإباحة، ص: 8) ‌والمباح له لا يملك أن ‌يبيح لغيره. (المبسوط للسرخسي، كتاب العارية، ج: 11، ص: 133) ولو أوصى بكلأ في أرضه سنين أو، وهبه أو صالح عليه من قصاص أو مال كان القول فيه كالقول في الشرب لاستوائهما في المعنى فكل واحد منهما مبقى على ‌شركة ‌الإباحة قبل الإحراز.(المبسوط للسرخسي، كتاب الشرب، ج: 23، ص: 188) المادة (1244) - (الأشجار النابتة من نفسها في ملك أحد هي ملكه فليس لآخر أن يحتطبها بدون إذنه فإن فعل يضمن). الأشجار النابتة من نفسها أو المغروسة من أحد وغير معلوم غارسها في ملك أحد هي ملكه وليست مشتركة بين الناس ومباحة لهم فلذلك ليس لآخر احتطابها بدون إذنه. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب العاشر: الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الإباحة، الفصل الأول، ج: 3، ص: 255) لا يجوز لأحد أن يتصرف في مال الغير بلا أذنه...وعدم الجواز شامل لجميع أنواع التصرف من استعمال كركوب ولبس. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، الكتاب الأول، الباب السادس في بيان الخيارات، الفصل الرابع في بيان خيار النقد، المادة: 96، ج: 1، ص: 262) فتویٰ نمبر : 6514/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy