واضح رہے کہ کسی شخص کو متعینہ حدود کے اندر کسی کام کی اجازت دینا "اباحت" کہلاتا ہے،نیز مالک کی طرف سےاپنے مملوک مال میں سےکسی خاص تصرف کی اجازت ملنے کی صورت میں یہ تصرف اس خاص قسم کے تصرف کے ساتھ خاص ہوگی جس کی مالک اجازت دے،چنانچہ اجازت ملے ہوئے لوگوں(شرکاء الإباحۃ) کو اسی خاص قسم کے تصرف کے علاوہ دیگر تصرفات کی اجازت نہیں ہوگی۔ صورت مسئولہ کے مطابق جنگل کے مالک کی طرف سے اجازت ملنے کی وجہ سےمذکورہ جنگل سے ذاتی استعمال کے لیے لکڑیاں لےجانا جائز ہے لیکن لے جا کر بیچنا جائز نہیں ہے کیونکہ مالک نے جلانے کی اجازت دی ہے نہ کہ آگے فروخت کرنے کی ،البتہ جن کو اجازت ملی ہے ان میں سے کوئی شخص اگر خود لکڑیاں نہیں لاسکتا،اورکسی شخص کو اجرت کے عوض لکڑیاں لانے کا کہےاور وہ اجرت لے کر اس کےلیے لکڑیاں لائےتو شرعا اس کی گنجائش موجود ہے۔ الإباحة: هي الإذن بإتيان الفعل كيف شاء الفاعل. (التعريفات، مادة: الإباحة، ص: 8) والمباح له لا يملك أن يبيح لغيره. (المبسوط للسرخسي، كتاب العارية، ج: 11، ص: 133) ولو أوصى بكلأ في أرضه سنين أو، وهبه أو صالح عليه من قصاص أو مال كان القول فيه كالقول في الشرب لاستوائهما في المعنى فكل واحد منهما مبقى على شركة الإباحة قبل الإحراز.(المبسوط للسرخسي، كتاب الشرب، ج: 23، ص: 188) المادة (1244) - (الأشجار النابتة من نفسها في ملك أحد هي ملكه فليس لآخر أن يحتطبها بدون إذنه فإن فعل يضمن). الأشجار النابتة من نفسها أو المغروسة من أحد وغير معلوم غارسها في ملك أحد هي ملكه وليست مشتركة بين الناس ومباحة لهم فلذلك ليس لآخر احتطابها بدون إذنه. (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الكتاب العاشر: الشركات، الباب الرابع في بيان شركة الإباحة، الفصل الأول، ج: 3، ص: 255) لا يجوز لأحد أن يتصرف في مال الغير بلا أذنه...وعدم الجواز شامل لجميع أنواع التصرف من استعمال كركوب ولبس. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، الكتاب الأول، الباب السادس في بيان الخيارات، الفصل الرابع في بيان خيار النقد، المادة: 96، ج: 1، ص: 262) فتویٰ نمبر : 6514/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل
اجازت ملنے کی صورت میں مملوك جنگل سے لکڑیاں لا کرآگے بیچنا
سوال
ایک گاؤں والوں کا مشترکہ جنگل تھا جس کو ایک آدمی نے خرید لیا اور گاؤں والوں کو جلانے کےلیے لکڑیاں لانے کی اجازت دی اگر گاؤں کا کوئی شخص لکڑیاں کاٹ کر گاؤں والوں میں سے کسی ایسے شخص کو جلانے کےلیے فروخت کرے جو خود لکڑیاں نہیں لا سکتا تو آیا اس کا فروخت کرنا درست ہے یا نہیں ؟
جواب
Related Fatwas
نصاب سے کم مال پر قربانی
ایک عورت کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا تھا، جس پر زکوٰۃ فرض ہوچکی تھی اور حولانِ حول بھی مکمل ہوچکا تھا۔…
جس مصرف کیلئے نذر مانی ہو اس کے ختم ہونے سے نذر کا حکم
کچھ سال پہلے ہمارے گاؤں میں ایک مدرسے کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ اس وقت میں نے یہ منت مانی تھی کہ…
تلاوت کے دوران اذان کا جواب دینا
مسجد میں دورانِ تلاوت اگر اذان شروع ہوجائے تو کیا تلاوت جاری رکھی جائے یا قرآن مجید بند کرکے اذان کا جواب…
دیسی گھی نہ پینے کی قسم کھانا
ایک شخص نے قسم کھائی کہ میں دیسی گھی نہیں پیوں گا، لیکن پھراس نے ثرید کھایا جس میں دیسی گھی بھی…
بیوی کی رضاعی بہن سے نکاح کرنا
اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک عورت ہو تو کیا وہ اس عورت کی رضاعی بہن سے نکاح کر سکتا ہے…
اجنبیہ عورت کوماں مان لینا
اگرکوئی شخص کسی اجنبیہ عورت کو ماں مان لے توبلوغت کو پہنچ جانے کے بعداس عورت سے پردے کا کیا حکم ہے؟