گاڑی کو اجارہ پر دے کر اپنے لیےخاص نفع مقرر کرنا

Reviewed Updated January 22, 2026 24

Question

ایک آدمی نے دوسرے  شخص کو اپنی گاڑی کرایہ پر  اس شرط کے ساتھ دی  کہ آپ مجھے روزانہ آٹھ سوروپیہ دیں گےاور باقی  جتنا پیسہ کما یاوہ آپ کا ہوگا،تو  یہ معاملہ  درست ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہےکہ اجارہ کی شرائط میں سےایک شرط یہ بھی ہےکہ اجرت اورمدت متعین  ومعلوم ہو،بصورت دیگراجارہ فاسدہوگا۔ لہذاصورت مسئولہ کےمطابق گاڑی کے مالک کاکسی کوگاڑی کرایہ پر دینا اوریومیہ اپنےلیے متعین طورپرآٹھ سوروپےبطوراجرت طےکرنا جائزہے،ایسی صورت میں گاڑی چلانےسےحاصل ہونےوالی ساری کمائی ڈرائیورکی ہوگی،جب کہ اس پرروزانہ آٹھ سو روپےمالک کودینالازم ہوگا،نیز اگرکسی دن اس کوکم مزدوری ہویا وہ گاڑی نہ چلائےتواس دن بھی وہ مالک کوکرایہ دینےکاپابندہوگا۔   ولاتصح حتى تكون المنافع معلومة،والأجرة معلومة.(الھدایة شرح بدایةالمبتدی،کتاب الإجارة،ج:2،ص:296) حتى أن‌من‌استأجر‌دابة ‌يومالأجل ‌الركوب فحبسھاالمستأجرفي منزله ولم يركبھا حتى مضى اليوم فإن استأجرها للركوب في المصريجب عليه الأجرلتمكنه من الاستيفاءفي المكان الذي أضيف إليه العقد.(الفتاوی الھندیة،کتاب الإجارۃ،الباب الثانی،فی بیان أنه متی تجب الأجرۃ ومایتعلق به من الملک وغیرہ،ج:4،ص:413) فتویٰ نمبر : 4025/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-01-22 کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy