پروویڈنٹ فنڈ پراضافی منافع لینا

Reviewed Updated May 10, 2026 23

Question

ہماری کمپنی  پروویڈنٹ فنڈ پالیسی کے مطابق ملازمین کی تنخواہوں میں سے  10٪ کٹوتی لازمی کرتی ہے، اور کمپنی والو ں کا کہنا ہے کہ وہ اس فنڈ کو اسلامی سرمایہ کاری  میں لگاتے ہے، تو اب سوال یہ ہے کہ کمپنی سے اپنا حصہ بمع منافع لینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ سرکاری اور بعض  نجی  اداروں میں  ملازمین  کی تنخواہوں سے ایک خاص فیصد کی  کٹوتی  کی جاتی ہے جو ان کو ریٹائرمنٹ کے بعد بمع منافع یکمشت دی جاتی ہے، یہ رقم ملازمین  ہی کی تنخواہوں  کا حصہ ہوتا ہے، جس کے ساتھ کمپنی بھی اپنا کچھ حصہ ملا کر سرمایہ کاری کرتی ہے، پھر یہ منافع مع  اصل رقم کےملازمین کو دیتی ہے ، اگر ملازمین کی  تنخواہوں میں سے یہ  کٹوتی جبرا کی جاتی ہو تو ملازمین کے لیے اپنی اصل رقم بمع منافع لینا جائز ہے، اوراگر کٹوتی  اختیاری کی جاتی ہو، لیکن کمپنی  اس فنڈ کو علما کی نگرانی میں  واقعتاًکسی حلال سرمایہ کاری میں لگاتی ہو تو بھی منافع لینا جائز ہے ۔   ثم ‌الأجرة ‌تستحق ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة ‌إما ‌بشرط ‌التعجيل، ‌أو ‌بالتعجيل، ‌أو ‌باستيفاء ‌المعقود ‌عليه، فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها، كذا في شرح الطحاوي. (الفتاوى الهندية، كتاب الإجارة، ج: (4/ 413) فتویٰ نمبر : 4049/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy