دو بھائی اور تین بہنوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم

Reviewed Updated September 27, 2025 20

Question

میری بہن کا انتقال ہوا ہے، جو کہ غیر شادی شدہ تھیں۔ اس کے ورثا میں دو بھائی اور تین بہنیں ہیں، جب کہ والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ مرحومہ کے ترکہ میں کچھ جائیداد اور کچھ بینک بیلنس ہیں۔ یہ ترکہ مرحومہ کے ورثاء کے درمیان کس تناسب سے تقسیم ہوگا؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں سائل کی بہن مرحومہ کا ترکہ ان کے مذکورہ ورثاء کے درمیان تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، اگر مرحومہ کے ذمّہ کوئی قرض ہو تو کل ترکہ سے اس کی ادائیگی کے بعد، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 7 حصّوں میں تقسیم کرکے دو دو حصّے ہر ایک بھائی کو اور ایک ایک حصّہ ہر ایک بہن کو ملے گا۔ صورتِ تقسیم یہ ہے: میت:7 یعنی فیصد کے اعتبار سے 28.571 فیصد ہر ایک بھائی کو، اور 14.285 فیصد ہر ایک بہن کو ملے گا۔ فقط واللہ اعلم

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy