سرکاری ملازم کا نوکری میں ترقی کے لئے رشوت دینا

Reviewed Updated December 25, 2025 18

Question

میں ملازم ہوں، ہمارے شعبہ میں پروموشن(ترقی) ہورہا ہے، میں نے پوری کوشش کی، لیکن افسران بالا بغیر رشوت کے مجھے پروموشن نہیں دے رہےہیں، حالانکہ قانونی طور پراُس عہدہ کےلیے میں اہل ہوں اور میرا حق بنتا ہے۔ کیا میں اس پروموشن کے لیے رشوت دے سکتا ہوں یا نہیں؟

Answer

واضح رہےکہ رشوت دےکرنا جائزطریقےسےاپنے مقصد کو حاصل کرنا یا کسی حق دارکا حق چھیننا جائز نہیں ہے، لیکن اگرکوئی شخص کسی چیزکاحق دارہو، اوررشوت کےبغیراس کی وصولی ممکن نہ ہو، توفقہائے کرام کی ہاں ایسی حالت میں رشوت دےکراپناحق کووصول کرنےکی گنجائش ہے، البتہ رشوت لینےوالےکےلیےرشوت لیناہرصورت میں ناجائز اورحرام ہے۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق اگرسائل واقعی قانوناًاس پروموشن کا اہل اوردیگر ملازمین سے زیادہ مستحق ہو،اس کےباوجوداس کو افسرانِ بالاترقی نہیں دیتے، تواس صورت میں رشوت دینےکی گنجائش ہے،لیکن لینے والے کے لیےبہرحال حرام ہے، اور اگرقانوناًسائل کاحق نہ بنتاہویا کوئی دوسرا زیادہ حق دار ہو،توپھر رشوت دینا حرام ہے۔   لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام .كان يعطي الشعراء ولمن يخاف لسانه.قال ابن عابدین:دفع المال للسلطان الجائرلدفع الظّلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له لیس برشوۃ.(ردّ المحتار علی الدّرالمختار،کتاب الحظروالإباحة، باب الاستبراءوغیرہ،ج:9،ص:607) فتویٰ نمبر : 6592/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) حلال وحرام کمائی کے مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy