یو، دوا، درے، بولنے سے طلاق کاحکم

Reviewed Updated May 3, 2026 72

سوال

ایک دن گھریلو ناچاقی پر غصہ کی حالت میں، میں نے بیوی سے کہا "یو، دوا، درے نکل جاؤ میرے گھر سے"۔ مقامی علماء کے مطابق اور ضلعی علماء کے مطابق تین طلاقیں پڑ چکی ہیں اور رجوع کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ طلاق کی کونسی قسم ہے صریح یا کنایہ؟ اس مسئلہ کی وضاحت کر دیں کہ طلاق ہوئی ہے کہ نہیں؟ کیونکہ یو، دوا، درے طلاق کے لیے استعمال نہیں ہوتے۔

جواب

"ایک، دو، تین" اعداد ہیں اور عدد کسی چیز کی کمیت اورمقدار بیان کرنے کے لئے وضع کیے گئے ہیں، لہذا ان الفاظ کو طلاق کی تعبیر اور اظہار قرار دینا مشکل ہے۔ لیکن جہاں کہیں عرف میں ایک، دو، تین کا عدد طلاق کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہو وہاں یہ الفاظِ طلاق شمار ہوں گے۔ اور جہاں طلاق کا قرینہ نہ ہو، وہاں نیت کا اعتبار ہوگا۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل نے بیوی سے "یو، دوا، درے نکل جاؤ" غصہ کی حالت میں کہے ہوں تو سائل کے اہل زبان کے عرف میں اگریہ الفاظ طلاق کے لئے استعمال ہوتے ہوں تو اس صورت میں تین طلاقیں شمار ہوں گی۔ اور اگر ان کے عرف میں یہ الفاظ طلاق کے لئے استعمال نہ ہوتے ہوں اور اِس نے طلاق کی نیت بھی نہ کی ہو تو پھر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔      رجل قال الإمرأته "ترایکی وتراسه" أو قال "تویکی و توسه" قال أبوالقاسم الصفار: لا يقع شيئ، قال الصدر الشهيد: يقع إذا نوى، قال و به يفتى. قال القاضي وينبغي أن يكون الجواب على التفصيل: إن كان ذلك في حال مذاكرة الطلاق، أو في حال الغضب يقع الطلاق، وإن لم يكن لا يقع إلا بالنية كما قال بالعربية أنتِ واحدة. (خلاصة الفتاوى،كتاب الطلاق،ج:2،ص:98) فتویٰ نمبر : 7391/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الطلاق متفرق احکامِ طلاق

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy