واضح رہے کہ بیوی کو مہر دینا شوہر کی ذمہ داری ہے ،البتہ اگرشوہر کا باپ یا دادا اپنی طرف سے بیٹے یا پوتے کی بیوی کو مہر میں کچھ دیدے ،تو یہ ان کی طرف سے ایک تبرع اور ہبہ شمار ہوگا ،اس وجہ سے اس عورت کا اس پر قبضہ کرنا ضروری ہے ،کیونکہ ہبہ بغیر قبضہ کے تام نہیں ہوتا،نیز جب مہر میں عورت کو کوئی متعین مکان لکھ کر دیا جائے تو یہ اس عورت کی ملکیت بن جاتی ہے ،اس لیے کسی اور کو اس میں تصرف کرنے کا اختیار نہیں ہے ،چنانچہ جس نے دیا ہے اس کی میراث میں یہ مکان شمار نہیں ہوگا ۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی شخص نے اپنے پوتے کی بیوی کو حق مہر میں ایک متعین مکان لکھ کر دیاتھا ،تو یہ مکان اس عورت کی ملکیت بن چکا ہے،اس وجہ سے کسی اور کو اس میں تصرف کرنے ، اس کو بیچنے،یا ہبہ کرنے کا اختیار نہیں ہے ،اگر کسی اور نے تصرف کیا تو وہ شرعا معتبر نہ ہوگا۔ ( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة ) ولو عاقدا لأنه سفير( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن (فإن أدى رجع على الزوج إن أمر ).(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب النكاح ،باب المهر ج:4،ص:286) (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (قوله: بالقبض) فيشترط القبض قبل الموت، ولو كانت في مرض الموت للأجنبي كما سبق في كتاب الوقف كذا في الهامش. (ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الهبة،ج5،ص690) وفي البزازية إذا أعطى الأب أرضا في مهر امرأته ثم مات الأب قبل قبض المرأة لا تكون الأرض لها؛ لأنها هبة من الأب لم تتم بالتسليم فإن ضمن المهر وأدى الأرض عنه ثم مات قبل التسليم كانت الأرض للمرأة؛ لأنه بيع فلا يبطل بالموت.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:188) [فرع] في الفيض: ولو أعطى ضيعة بمهر امرأة ابنه ولم تقبضها حتى مات الأب فباعتها المرأة لم يصح إلا إذا ضمن الأب المهر ثم أعطى الضيعة به فحينئذ لا حاجة إلى القبض.(رد المحتار على الدر المختار ،كتاب النكاح ،باب المهر،ج:3، ص:143) فتویٰ نمبر : 7268/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب النکاح مہرکے احکام
پوتے کی بیوی کو مہر میں متعین مکان لکھنے کے بعد کسی دوسرے کا اس میں تصرف کرنا
سوال
ایک شخص اپنے پوتے کی بیوی کو حق مہر میں کوئی متعین مکان لکھ کر دے دے، تو کیا عورت اس کی مالکہ بن جاتی ہے یا نہیں ؟نیز کیا بعد میں اس شخص کا بیٹا اس مکان میں کوئی ذاتی تصرف کرسکتا ہے مثلاً اس کو بیچنا یا کسی اور شخص کو ہبہ کرنا وغیرہ؟
جواب
Related Fatwas
تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا
ہمارے علاقے میں تایا زاد بہن کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اسے عرف عام میں بھانجی…
گنے یا گُڑ میں عشر
ہمارےگنے کے کھیت ہیں ہم اس گنے سے عام طور پر گُڑ بناتے ہیں ،اب پوچھنا یہ ہےکہ جب ہم عشر دیں…
گھر کی مشترکہ رقم سے بیوی بچوں کے اخراجات پوری کرنا
ایک بھائی اپنے حقیقی بھائی کو ہر ماہ گھریلو اخراجات کی مد میں ایک متعین رقم بھیجتا ہے۔ رقم وصول کرنے والا…
مسجد کی پرانی اشیاء کی فروختگی اور اس کے استعمال کا حکم
اگر کوئی شخص مقامی مسجد میں کوئی پرانی چیز مثلاً: پنکھا، بلب، بٹن، نلکا یا چٹائی وغیرہ ہٹا کر اس کی جگہ…
اجنبیہ عورت کوماں مان لینا
اگرکوئی شخص کسی اجنبیہ عورت کو ماں مان لے توبلوغت کو پہنچ جانے کے بعداس عورت سے پردے کا کیا حکم ہے؟
تین، چار سال کے بچوں کو مسجد لانے کا حکم۔ نماز میں کپڑوں کو درست کرنے/کھیلنے کا حکم۔
1۔کیا مسجد میں کم عمر بچوں کو لانا جائز ہے جن کی عمر تقریبا تین چار سال ہو؟ 2۔ کیا نماز میں…