واضح رہے کہ تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنے میں شرعاً کوئی قباحت یا ممانعت نہیں ہے، کیونکہ تایا زاد بہن کی بیٹی شرعی اعتبار سے محرمات میں شامل نہیں ہوتی، بلکہ وہ غیر محرم ہے۔ عرفِ عام میں اسے بھانجی یا بھتیجی کہنا شرعی حکم کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ والصنف الرابع الاعمام والعمات والاخوال والخالات واعمام وعمات واخوال وخالات الآباء والامهات والاجداد والجدات وان علوا من اية جهة كانوا لاب وام أو لاب او لام يحرمون بأنفسهم واما أولاد جميع هذا الصنف واولاد اولادهم وان سفلوا فان التناكح والتسري يحل فيما بينهم من جميع وجوه القرابات وهم ارحام لا محارم.( النتف في الفتاوى، كتاب النكاح، الحرمة المؤبدة بالنسب، ج:1، ص:253) فتویٰ نمبر : 7413/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-19 کتاب النکاح شرائط وارکانِ
تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا
سوال
ہمارے علاقے میں تایا زاد بہن کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ اسے عرف عام میں بھانجی یا بھتیجی مانا جاتاہے۔ تو کیا تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے؟
جواب
Related Fatwas
سالگرہ میں شرکت نہ کرنے پر رشتہ داروں کا ناراض ہونا
رشتے داروں میں یاآفسز میں جس کی پیدائش کا دن ہوتا ہے اس کی سالگرہ کا دن منایا جاتا ہے۔اگر شرکت نہ…
عشر کاشتکار پر یا مالکِ زمین پر
ایک شخص نے اپنی زمین اجارہ پر دی ہے، اور سالانہ 240000 ہزار روپے کرایہ وصول کرتا ہے، اب اس کا عشر…
وارث کا اپنے مورث سے اس کی زندگی میں حصے کا مطالبہ کرنا
اگر کسی شخص کی ذاتی ملکیت میں کوئی مال وجائیداد ہوتو کیا اس کے بھائی اور بہن اس سے حصے کا مطالبہ…
اگر دوبارہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھا تو میرے اور تمھارے درمیان سب کچھ ختم ہو جائے گا کہنے کا حکم
میری شادی کو بارہ سال ہو گئے تھے پھر میں نے دوسری شادی کی ، جب پہلی بیوی کو اطلاع ہوئی تو…
پہلی طلاق کےرجوع کے بعد دوسری طلاق دینےکےبعدرجوع کا حکم
میں نے پانچ سال پہلےاپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ”میں نے تجھےپہلی طلاق دی“، پھر میں نے…
ایک کرنسی قرض میں لے کر دوسری کرنسی میں ادائیگی کرنا
پانچ سال قبل میں نے اپنے ایک دوست سے ایک لاکھ پاکستانی روپے قرض لیے تھے، اُس وقت ایک لاکھ روپے سے…