صورتِ مسئولہ میں پانچ سال پہلے آپ نے اپنی بیوی کو اگر واقعتًاایک ہی طلاق رجعی دے کر عدت کے اندر رجوع بھی کرلیا تھا، توآپ کے پاس صرف دوطلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا، اب حال ہی میں آپ نے اپنی بیوی کو صرف ایک اور طلاق رجعی دی ہے، تو ابھی بھی رجوع کا حق حاصل ہے، لہٰذا عدت کے دوران رجوع کرسکتے ہیں، البتہ آئندہ کے لیے آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے ،لہٰذا آئندہ اگر تیسری طلاق بھی دے دی تو بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی اور رجوع یادوبارہ نکاح کی گنجائش نہیں رہے گی۔ الجوهرۃ النيرۃعلى مختصر القدوری میں ہے: "وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض) إنما شرط بقاؤها في العدة لأنها إذا انقضت زال الملك وحقوقه فلا تصح الرجعة بعد ذلك وقوله رضيت أو لم ترض؛ لأنها باقية على الزوجية بدليل جواز الظهار عليها والإيلاء واللعان والتوارث ووقوع الطلاق عليها ما دامت معتدة بالإجماع وللزوج إمساك زوجته رضيت أو لم ترض وقد دل على ذلك قوله تعالى {وبعولتهن أحق بردهن} [البقرة: 228] سماه بعلا وهذا يقتضي بقاء الزوجية بينهما." (كتاب الرجعة، ج:2، ص:50، ط:المطبعة الخيرية) فتاوی شامی میں ہے: "هذا بيان لشرط الرجعة، ولها شروط خمس تعلم بالتأمل شرنبلالية، قلت: هي أن لا يكون الطلاق ثلاثا في الحرة، أو ثنتين في الأمة ولا واحدة مقترنة بعوض مالي ولا بصفة تنبئ عن البينونة - كطويلة، أو شديدة -، ولا مشبهة كطلقة مثل الجبل، ولا كناية يقع بها بائن. ولا يخفى أن الشرط واحد هو كون الطلاق رجعيا، وهذه شروط كونه رجعيا متى فقد منها شرط كان بائنا كما أوضحناه أول كتاب الطلاق." (کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:400، ط:سعید) بدائع الصنائع میں ہے: "وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230]، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة." (کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 187 ط: دار الکتب العلمیة) فقط واللہ اعلم
پہلی طلاق کےرجوع کے بعد دوسری طلاق دینےکےبعدرجوع کا حکم
Question
میں نے پانچ سال پہلےاپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ”میں نے تجھےپہلی طلاق دی“، پھر میں نے عدت کے اندر رجوع کرلیا تھا، پھر ابھی پچھلے جمعہ کو لڑائی کے دوران بیوی کو ایک اور طلاق دی کہ ”میں نے تجھے طلاق دی“، ابھی میرے لیےکیا حکم ہے؟
Answer
Related Fatwas
اقل مقدارمہر سے کم مہر مقرر کرنا
ماہ رواں بتاریخ 9 اپریل 2026 کو ایک محفل میں 3 نکاحوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں سے ہر ایک میں…
بیوی کا حق مہر کے بدلے بھینس لینا
ایک نکاح میں حقِ مہر تین لاکھ (300,000) روپے مقرر کیا گیا تھا۔ بعد از نکاح شوہر نے حقِ مہر ادا کرنے…
گاؤں شاہ گئی میں نماز جمعہ کا قیام
ہمارے گاؤں شاہ گئی جوبرلب تجوڑی روڈ کے جنوب میں واقع ہےجس کی آبادی 2860 تک پہنچی ہے اور مندرجہ ذیل سہولیات…
رہن میں رکھی ہوئی چیز کی زکوۃ
اگر کوئی شخص کسی کے پاس کوئی مال رہن (گروی) کے طور پر رکھے، تو سال مکمل ہونے پراس مال کی زکوٰۃ…
شوہر کا اپنی بیوی سے جسمانی تعلق ترک کرنے اور جنسی کھلونے استعمال کرنے کا حکم
میری عمر 32 سال ہے، میری شادی کو 8 سال ہوگئے ہیں، اور میری ایک بیٹی ہے۔ میرے شوہر ملک سے باہر…
دھمکی طلاق کے بعد گھر جانے پر طلاق کو معلق کرنا
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ اپنے گھر چلی جاؤ اور جب اس کا بھائی لے جانے کے لیے آئے…