دھمکی طلاق کے بعد گھر جانے پر طلاق کو معلق کرنا

Reviewed Updated December 7, 2025 23

Question

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کہے کہ اپنے گھر چلی جاؤ اور جب اس کا بھائی لے جانے کے لیے آئے تو شوہر یہ الفاظ کہے کہ "دی زل لاڑہ شی نو طلاق کاغذ بہ تالہ رالیگم"( یعنی  اس دفعہ جاؤ تو تمہیں طلاق کے کاغذ بھیجوں گا )اور پھر تھوڑی دیر بعد  یہ الفاظ کہے "دی زل بہ طلاق ئی"(یعنی اس دفعہ طلاق ہوگی) جانے اور نہ جانے کا ذکر نہیں کیا ،تو ایسی صورت میں اپنے  گھر جانے سے طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ  اگر کوئی شخص بیوی کو کسی کام کرنے پر طلاق نامہ بھیجنے کی دھمکی دے دے ،تو محض دھمکی سے  طلاق واقع نہیں ہوتی۔اور اگرطلاق  کسی کام  کے کرنے یا کہیں جانے  کے ساتھ معلق کی جائے تو شرط کے پائے جانے  سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق  اس شخص کے یہ الفاظ" دی زل لاڑہ شی نو طلاق کاغذ بہ تالہ رالیگم "( یعنی  اس دفعہ جاؤ تو تمہیں طلاق کے کاغذ بھیجوں گا) صرف طلاق کی دھمکی ہے ،اس لیے اس کے بعد گھر جانے سے طلاق واقع نہیں ہوتی،البتہ بعد میں کہنے والے الفاظ" دی زل بہ طلاق ئی" (یعنی اس دفعہ  طلاق ہوگی) تعلیق طلاق ہے،اور  بظاہر مکالمے سے معلوم ہوتا ہے کہ "اس دفعہ" سے بیوی کا اپنے گھر جانا مراد ہے ،لہذا اس کے بعد   عورت کے اپنے گھر جانے پر  ایک طلاق رجعی واقع ہو گی۔   وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،ج:1،ص:420)  في المحيط لو قال بالعربية ‌أطلق ‌لا ‌يكون ‌طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع في الطلاق بالفارسية،ج:1،ص:384) فتویٰ نمبر : 7314/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-07 کتاب الطلاق مشروط طلاق

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy