واضح رہے کہ مسجدسے یا عامۃ المسلمین کےلیے موقوفہ اموال میں سے چوری کرنا "سرقہ کبری "میں داخل ہے،اور چوری کا مال جب تک بعینہ موجود ہوتو اس کو لوٹانا ضروری ہےورنہ بصورت دیگر موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق اس کی رقم لوٹانا ضروری ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق مسجد سےکی گئی چوری سے اپنے ذمہ کی فراغت کےلیے ضروری ہےکہ ا گر بعینہ وہ چیز موجودتو اس کومسجد کے املاک میں لوٹایا جائے،اوراگر بعینہ وہ چیز مسجد میں لوٹانا ممکن نہ ہوتو بازار میں اس چیز کا مثل پائے جانے کی صورت میں اس چیز کا مثل مسجد کے املاک میں لوٹانا ضروری ہے،ورنہ بصورت دیگرموجودہ قیمت کے اعتبار سے اس چیز کی رقم مسجد کے چندہ بکس میں ڈالنے سے شرعا اس کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔ "السرقة (هي) لغة أخذ الشيء من الغير خفية، وتسمية المسروق سرقة مجاز. وشرعا باعتبار الحرمة أخذه كذلك بغير حق نصابا كان أم لا"[قال ابن عابدين تحته: قال القهستاني: وهي نوعان؛ لأنه إما أن يكون ضررها بذي المال أو به وبعامة المسلمين، فالأول يسمى بالسرقة الصغرى والثاني بالكبرى، بين حكمها في الآخر؛ لأنها أقل وقوعا وقد اشتركا في التعريف وأكثر الشروط اهـ أي؛ لأن المعتبر في كل منهما أخذ المال خفية، لكن الخفية في الصغرى هي الخفية عن غين المالك أو من يقوم مقامه كالمودع والمستعير. وفي الكبرى عن عين الإمام الملتزم حفظ طرق المسلمين وبلادهم كما في الفتح.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب السرقة، ج: 4، ص: 82) وأما في الشريعة فلها تعريفان تعريف باعتبار الحرمة وتعريف باعتبار ترتب حكم شرعي وهو القطع أما الأول فهو أخذ الشيء من الغير على وجه الخفية بغير حق سواء كان نصابا. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، كتاب الحدود، باب السرقة، ج: 5، ص: 54) ليس لذي الحق أن يأخذ غير جنس حقه وجوزه الشافعي وهو الأوسع.[قال ابن عابدين تحته: ] (قوله وجوزه الشافعي) قدمنا في كتاب الحجر: أن عدم الجواز كان في زمانهم، أما اليوم فالفتوى على الجواز (قوله وهو الأوسع) لتعينه طريقا لاستيفاء حقه فينتقل حقه من الصورة إلى المالية كما في الغصب والإتلاف مجتبى، وفيه وجد دنانير مديونه وله عليه دراهم، فله أن يأخذه لاتحادهم جنسا في الثمنية اهـ. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الحضر والإباحة، فصل في البيع، فروع: كتب أما قول الشافعي...، ج: 6، ص: 422) فالطريق الذي يعتدل فيه النظر من الجانبين هذا، وهو أن يشهدا بلفظ الأخذ دون السرقة ليكون الآخذ مجبرا على رد العين حال قيامها وعلى رد القيمة عند هلاكها فيتوصل صاحب المتاع إلى حقه ولا ينتهك ستر الآخذ وهما صادقان في هذه الشهادة، فالسارق أخذ المتاع لا محالة. (المبسوط للسرخسي، كتاب السرقة، السرقة من السارق، ج: 9، ص: 146) فتویٰ نمبر : 6514/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الجنایات
مسجد سے چوری کی گئی چیز سے اپنے ذمہ کو فارغ کرنا
Question
ایک شخص نے مسجد سے چوری کی ہےاب وہ اپنے ذمہ کی فراغت کےلیے اس چوری کےبدلے پیسے جمعہ کے دن چندہ بکس میں ڈالنا چاہتا ہے ،کیا مسجد کے چندہ بکس میں پیسے ڈالنے سے اس کا ذمہ فارغ ہوگا یا نہیں؟
Answer
Related Fatwas
یمان اور ایان نام رکھنا
یمان اور ایان کا معنی کیا ہے اور یہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
میقات میں مقیم شخص کا حجِ قران
ایک شخص پاکستان سے مکہ مکرمہ گیا اور عمرہ کی ادائیگی کی ، حلال ہونے کے بعد وہاں مقیم رہا جب کہ…
مدرسہ کے لیے وقف شدہ زمین پر مسجد بنانا
ایک شخص نے بنات کے مدرسہ کے لئے زمین وقف کی، اس کے لیے لوگوں سے چندہ بھی جمع کیا اور بھٹہ…
نکاح خواں کےتلقین کردہ الفاظ کے جواب میں “جی” کہنا
اگر نکاح خواں نے لڑکی کو کہا کہ فلاں بنت فلاں آپ نے اپنے آپ کو اتنے مہر کے عوض فلاں بن…
سورہ فاتحہ کے تکرار سے سجدہ سہو کا حکم
اگرامام صاحب نے آیاتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا اور سجدہ سے اٹھ کر پھر سے فاتحہ اس خیال سے پڑھا کہ…
وکیل کا مالِ زکوٰۃ کو اپنے اور رشتہ داروں کی اخراجات میں استعمال کرنا
ایک شخص مہتمم صاحب کو زکوٰۃ دیتےہوئے یہ اعتماد ظاہر کرتاہےکہ آپ اس رقم کو درست اورجائزمصرف میں استعمال کریں گےاور یہ…