یمان اور ایان نام رکھنا

Reviewed Updated May 24, 2026 88

سوال

یمان اور ایان کا معنی کیا ہے اور یہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ہر وہ نام جسے حضور ﷺ صحابہ کرام یا علماو صلحاے امت نے استعمال کیا ہو ایسا نام رکھنا جائز ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق "یمان "صحابی کا نام ہے اس لئے رکھنا جائز ہےاور "ایان""ا"پر زبر"ی" پر شد ہوتو  کلامِ عرب میں یہ اسمِ شرط بمعنی "کب" کے لیے استعمال ہوتا ہے، یہ کوئی بامعنی  نام نہیں اس لیے یہ نا م نہ رکھا جائے۔ البتہ اگر"ایان"الف کی بجائے"ع"کے ساتھ"عیان"ہو نام رکھا جائے تو یہ درست ہے اس کا معنی"واضح وظاہر"ہے۔   اليمان بن جابر:والد حذيفة. تقدم في الحاء المهملة أن اسمه حسل، ولقبه اليمان، وقيل: إن اليمان لقب جدّ حذيفة. (الإصابة في تمييز الصحابة،ج:6،ص:542) أيّان : (اسم) 1- إسم شرط للزمان يجزم فعلين ، نحو: أيان تدرس تنجح ،2- إسم استفهام بمعنى "متى"، نحو : أيان ترجع؟ (معجم الرائد،ج:1،ص:230) فتویٰ نمبر : 6676/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-24 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) ناموں کابیان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy