شریعتِ مطہرہ کی رو سے صریح الفاظ کی طرح کنائی الفاظ سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، بشرطیکہ شوہر نے کنائی الفاظ سے طلاق کی نیت کی ہو، یا غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہوں، یا مذاکرۂ طلاق کے وقت یہ الفاظ استعمال کیے ہوں۔ کنائی الفاظ کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوجاتی ہے، جس سے دونوں کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے، اور شوہر تجدیدِ نکاح کے بغیر عورت کے قریب نہیں جاسکتا۔نیز اگر شوہر ایک طلاقِ بائن دینے کے بعد دوسری طلاقِ بائن دے دے، یا طلاقِ بائن کے بعد بیوی خلع لے لے، تو اس دوسری طلاقِ بائن یا خلع کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا، کیونکہ پہلی طلاقِ بائن سے ہی دونوں کا رشتہ ختم ہوچکا ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ رشتہ ختم ہوجانے کے بعد دوبارہ طلاق یا خلع کا کوئی معنی نہیں رہتا۔ اس لیے بیوی کی عدت کا اعتبار بھی پہلی طلاق سے ہی ہوگا۔ لہٰذا جب پہلی طلاق کے بعد تین حیض گزر جائیں، تو عورت کی عدت ختم ہوجائے گی۔ صورتِ مسئولہ کے مطابق، اگر واقعی شوہر نےغصہ کی حالت میں یہ الفاظ کہے ہوں کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو، میرا اور تمہارا رشتہ ایک کاغذ کا ہے، تم اپنا سامان پیک کرو، میں آج تمہارا ٹکٹ کراکے پشاور بھیجتا ہوں"، تو چونکہ یہ الفاظ کنایہ کے اس قبیل سے ہیں،جب غصہ کی حا لت میں بولے جائیں، تو بلا نیت طلاق بھی ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ،اس لیے جس دن شوہر نے یہ الفاظ کہے، اسی دن سے سائلہ کی عدت شمار ہوگی۔ قال رحمه الله (لا تطلق بها إلا بنيته أو دلالة الحال) أي لا تطلق بالكنايات إلا بأحد هذين الأمرين؛ لأن ألفاظ الكنايات غير مختصة بالطلاق بل تحتمله وغيره فلا بد من المرجح..... قال رحمه الله (وهي) أي غير الثلاثة الأول من الكنايات (بائن بتة بتلة حرام خلية برية حبلك على غاربك الحقي بأهلك وهبتك لأهلك سرحتك فارقتك أمرك بيدك اختاري أنت حرة تقنعي تخمري استتري اغربي اخرجي اذهبي قومي ابتغي الأزواج)؛ لأن هذه الجملة تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من التعيين ليتبين الحال.(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق،كتاب الطلاق،باب الكنايات،ج:2،ص:215-216) وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الخامس ،ج: 1، ص:375) (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح ..... (لا) يلحق البائن (البائن).(الدر المختار مع تنوير الأبصار ،كتاب الطلاق ،باب الكنايات،ج:3،ص:306 -308) فتویٰ نمبر : 7284/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 عدت کے احکام
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
Question
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے میں 20 اپریل کو اپنے شوہر کے پاس کراچی چلی گئی ،وہاں شوہر کے ساتھ کچھ دن رہتے ہوئے مجھے اندازہ ہوا کہ میرا شوہر لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات میں ملوث ہے،اس لیے جب میری اس کے ساتھ اس بارے میں بات ہوئی ،تو مجھے کہنے لگے"تم میری طرف سے فارغ ہو میرا اور تمہارا رشتہ ایک کاغذ کا ہے ،تم اپنا سامان پیک کرو میں آج تمہارا ٹکٹ کراکر پشاور بھیجتا ہوں" وہ یہی چاہتے تھے کہ یہ رشتہ ختم ہو ،اس کے بعد میں جون کے مہینے میں پشاور آگئی،چونکہ مجھے ان الفاظ کے بارے نہیں پتہ تھا ،اس وجہ سے میں نے مہلت دینے اور سدھر نے کا کہا لیکن وہ نہیں مانے اوراسی رشتہ کو ختم کرنا چاہتے تھے،لہذا میں نے 18 جولائی کو خلع درج کروائی ،کاغذات بننے کے بعد شوہر تک کراچی پہنچے تو 18 ستمبر کو میرے شوہر نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے،اس کے بعد میرے پاس پہنچنے میں کچھ دن لگ گئے اور 30 ستمبر کو میں نے دستخط کیے،اب پوچھنا یہ ہے کہ میری عدت کب سے شروع ہوگئی ہے،شوہر کے ان الفاظ سے کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو" یا خلع کے کاغذات پر دستخط کرنے کے بعد سے ؟
Answer
Related Fatwas
وطن اصلی کی تبدیلی
زاہد نے اپنا گاؤں وعلاقہ روزگار کے سلسلے میں چھوڑدیا ہے ۔اور فیصل آباد منتقل ہوگیا۔وہاں اس کے ساتھ فیملی بھی رہتی…
ایسی کمپنی کے شیئرز خریدنا جس کا ایک حصہ آمدنی سود کا ہو
ایک شخص نے ایسی کمپنی کے شیئرز خریدے جو حلال چیزیں ( ادویات) بناتی ہے، مگر اس کی آمدنی کا ایک حصہ…
حدیث کے راوی کی تحقیق
آٹھویں جماعت کی درسی کتاب میں ایک حدیث مبارکہ ہے''حضرت عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس نے استطاعت کے باوجود حج…
دوسرے شخص سے ٹیسٹ دلوا کر نوکری حاصل کرنے والے کی تنخواہ
زید اور عمرو دو بھائی ہیں، علاقے کی سطح پرایک سرکاری نوکری کا اشتہارجاری ہوا، عمرو نے باقاعدہ کاغذات جمع کیے، ٹیسٹ…
مطلق عقد مضاربت میں مضارب کا کسی کو وکیل بنانا
ایک شخص نے دوسرے شخص کو بطورِ مضاربت مال دیا، مگرعقد کے وقت کسی مخصوص کام کی صراحت نہ کی، تو کیا…
والد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا
آپ نے فتوٰی نمبر 7281/297/324 بتاریخ 5/10/2025 مرحمت فرمایا ہے۔ جس میں والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنا رہائشی مکان چاروں…