مسنون دعائیں

کاروبار اور تجارت میں برکت کا وظیفہ

کاروبار اور تجارت میں برکت کا وظیفہ | MasnoonDuayain

کاروبار اور تجارت میں برکت اور کامیابی ہر تاجر کی دلی خواہش ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات ہمیں نہ صرف حلال رزق کمانے کی ترغیب دیتی ہیں بلکہ تجارت میں ایمانداری اور دھوکے سے بچاؤ کے طریقے بھی سکھاتی ہیں۔ اس مضمون میں ایک ایسی ہی نبوی نسخہ پیش کیا جا رہا ہے جو بیع و شراء کے مسائل میں دھوکہ دہی سے بچنے اور کاروبار میں برکت حاصل کرنے کے لیے انتہائی مفید اور اکسیر ہے۔


کاروبار میں برکت کا وظیفہ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انصار کا ایک آدمی تھا جسے بیع میں لوگ دھوکہ دے دیتے تھے ، اس کی زبان میں لکنت بھی تھی ، اس نے نبی ﷺ سے اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کی شکایت کی ، نبی ﷺ نے فرمایا جب تم بیع کیا کرو تو تم یوں کہہ لیا کرو کہ (مطلب یہ وظیفہ کیا کرو)

’’ (لا خلابہ) اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے ‘‘

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اب بھی میں اسے بیع کرتے ہوئے ’’ لا خلابہ ‘‘ کہتے ہوئے (مطلب یی وظیفہ کرتے ہوۓ) سن رہا ہوں ، اور اس کی زبان اڑ رہی ہے ۔

(ابو داؤد، باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فِي الْبَيْعِ لاَ خِلاَبَةَ ، حدیث :3500)


حدیث کے فوائد اور حکمتیں

یہ حدیث مبارکہ ہمیں کاروبار میں ایمانداری اور خرید و فروخت میں دھوکہ دہی سے تحفظ کا ایک انمول نبوی نسخہ فراہم کرتی ہے۔ اس سے چند اہم نکات سامنے آتے ہیں

  1. صداقت کا اعلان: “لا خلابہ” (کوئی دھوکہ نہیں) کا کہنا دراصل خریدار یا بیچنے والے کو یہ یقین دہانی کروانا ہے کہ اس معاملے میں کوئی فریب یا چھپی ہوئی کمی نہیں ہے۔ یہ فریقین کے درمیان اعتماد کو فروغ دیتا ہے، جو تجارت میں کامیابی کی بنیاد ہے۔
  2. ایمانداری کی تلقین: یہ حدیث نبویﷺ تمام مسلمانوں کو اپنے معاملات میں مکمل طور پر ایماندار رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ جب ایک شخص اس دعا کے ساتھ تجارت کرتا ہے، تو وہ شعوری طور پر بھی خود کو دھوکہ دہی سے دور رکھنے کا عہد کرتا ہے۔
  3. نبوی دعاؤں کی تاثیر: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو ان کی انفرادی مشکلات کے حل کے لیے خصوصی دعائیں اور عملی مشورے دیے، جن کے اندر روحانی اور دنیاوی دونوں طرح کے فوائد پوشیدہ تھے۔ یہ کاروبار میں برکت کا وظیفہ بھی ہے۔
  4. لسانی لکنت کے باوجود دعا کی اہمیت: اس صحابی کی زبان میں لکنت تھی اس کے باوجود نبی ﷺ نے اسے یہ الفاظ سکھائے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ نیت کی پختگی اور اللہ پر توکل سب سے بڑھ کر ہے، اور اللہ تعالیٰ نیتوں کو جانتا ہے۔
  5. سماجی سطح پر اثر: اگر ہر تاجر اس اصول پر عمل کرے تو معاشرے میں تجارت کے اصول بہت مضبوط ہو جائیں گے اور مالی معاملات میں شفافیت آئے گی، جس سے دھوکہ دہی کا خاتمہ ہو گا ان شاء اللہ۔

وظیفہ کا طریقہ

جو چاہتا ہے کہ میرے کاروبار میں برکت ہو یا میرے تجارت میں برکت ہو تو اسے چاہئے کہ ”لَا خِلَابَةَ “ کو اپنے کاروبار کے اوقات میں اس وظیفہ کو کثرت سے پڑھتا رہے ان شاء اللہ نتائج آپ کے سامنے ہونگے۔

یا ” اللّھم لَا خِلَابَةَ “ کو ایک ورقہ پر لکھ کر اسے (پاک جگہ میں) اپنے کاروبار کے سامان یا اپنے تجارت کے سامان میں رکھیں۔ ان شاء اللہ بہت جلد آپ کو اپنے کاروبار میں کامیابی اور اپنے تجارت میں کامیابی ملے گی۔

ایک حیرت انگیز وظیفہ

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *