والد کا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا

Reviewed Updated November 4, 2025 24

Question

آپ نے فتوٰی نمبر 7281/297/324 بتاریخ 5/10/2025 مرحمت فرمایا ہے۔ جس میں والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنا رہائشی مکان چاروں بیٹوں کی ازواج کے نام ہبہ کردیا ہے، اور تینوں بیٹیوں کو اُن کا حصہ نہیں دیا ہے۔ کیا والد صاحب نے جائیداد کی تقسیم شرع محمدی کے مطابق کی ہے؟ اگر تقسیم شرعی محمدی کے مطابق نہیں ہے تواولاد کیسے تقسیم کرے گی؟ مہربانی فرماکر رہنمائی فرمائیں۔

Answer

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک شخص اپنی زندگی میں بحالتِ صحت وبقائے ہوش وحواس اپنی مملوکہ جائیداد میں ہر قسم کے مالکانہ تصرفات کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اس کی زندگی میں اس کے مال و جائیداد میں اولاد یا کسی اور کا بطورِ وراثت کوئی حق نہیں ہوتا، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی جائیداد میں سے کسی کو ہبہ کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرکےان کو ہبہ کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے شریعتِ مطہرہ کی تعلیمات یہ ہیں کہ وہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری سےتقسیم کرے، بلا وجہ کسی کو کم یا زیادہ نہ دے اور نہ ہی بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق کرے۔ البتہ اگر اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کے زیادہ نیک وصالح ہونے یا خدمت گزار ہونے کی وجہ سے اس کو دیگر کے مقابلہ میں کچھ زائد دے تو اس کی گنجائش ہے۔لیکن بلا وجہ کسی کو محروم کرنا درست نہیں۔ تاہم پھر بھی اگر باپ نے اپنی زندگی میں اولاد میں سے کسی کو ہبہ کرکے قبضہ دے دیا ہو، تو وہ تقسیم نافذ ہوگی۔ اور والد کے انتقال کے بعد جسے جو حصہ ہبہ کیا گیا تھا، وہی اس کا مالک شمار ہوگا، دوسرا کوئی شخص اس میں وراثت کا دعوٰی نہیں کرسکتا، اور نہ ہی وہ حصہ ترکہ میں شامل ہوگا۔ صورتِ مسئولہ میں اگر والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنا مکان اپنے چاروں بیٹوں کی ازواج(بہوؤں) کے نام ہبہ کرکےان کو قبضہ دیا ہو، تو یہ مکان ان کی ملکیت شمار ہوگا، لہٰذا والد کی وفات کے بعد یہ ان کی وراثت میں شمارنہ ہوگا۔ نیز چونکہ یہ بیٹوں کی نہیں بلکہ بہوؤں کی ملکیت ہے اس لیے بیٹوں کو ازسرِنو تقسیم کا کوئی حق نہیں ہے۔   (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «‌سووا ‌بين ‌أولادكم ‌في ‌العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. (رد المحتار على الدر المختار، كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:444) وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ‌ولو ‌وهب ‌في ‌صحته ‌كل ‌المال ‌للولد ‌جاز ‌وأثم. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الهبة، ج:5، ص:696) ‌ولو ‌وهب ‌رجل ‌شيئا ‌لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى. (الفتاوى الهندية، كتاب الهبة، الباب السادس في الهبة للصغير، ج:4، ص:391) (‌وتتم) ‌الهبة (‌بالقبض) ‌الكامل. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الهبة، ج:5، ص:689) فتویٰ نمبر : 3958/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy