واضح رہے کہ جمعہ کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط شہر یا اس کے مضافات کا ہونا ہے، قریہ کبیرہ یعنی بڑا گاؤں بھی شہر کے حکم میں داخل ہے، قریہ کبیرہ سے مراد وہ بستی ہے جس کی مجموعی آبادی کم از کم دو، ڈھائی ہزار لوگوں پر مشتمل ہو، اور وہاں ضروریاتِ زندگی کا سامان میسر ہو، تو یہ عرف میں قریہ کبیرہ یعنی بڑی بستی کہلاتی ہے۔ ایسی جگہ جمعہ وعیدین کی نماز قائم کرنا درست ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ ذکر کردہ گاؤں کی آبادی ڈھائی ہزار سے متجاوز ہے، نیز مذکورہ گاؤں میں حسبِ سوال زندگی کی سہولیات بھی میسر ہیں، اس لیے اس میں نمازِ جمعہ وعیدین کی ادائیگی جائز ہے۔ لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى " لقوله عليه الصلاة والسلام " لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع ". (الهداية في شرح بداية المبتدي، كتاب الصلاة، باب الصلاة الجمعة، ج:1، ص:82) (ويشترط لصحتها) سبعة أشياء: الأول: (المصر وهو ما لا يسع أكبر مساجده أهله المكلفين بها) وعليه فتوى أكثر الفقهاء..... (أو فناؤه) بكسر الفاء (وهو ما) حوله (اتصل به) أو لا كما حرره ابن الكمال وغيره (لأجل مصالحه) كدفن الموتى وركض الخيل والمختار للفتوى تقديره بفرسخ ذكره الولوالجي. (الدر المختار شرح تنوير الأبصار، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:2، ص:139) وروي عن أبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث وهو الأصح. (بدائع الصنائع، فصل في صلاة الجمعة، بيان شرائط الجمعة، ج:1، ص:260) فتویٰ نمبر : 10763/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الصلوۃ نمازِجمعہ
گاؤں شاہ گئی میں نماز جمعہ کا قیام
سوال
ہمارے گاؤں شاہ گئی جوبرلب تجوڑی روڈ کے جنوب میں واقع ہےجس کی آبادی 2860 تک پہنچی ہے اور مندرجہ ذیل سہولیات سے آراستہ ہے: 5 میڈیکل سٹور، ایک ڈینٹل کلینک، دو غلہ منڈیاں، دو پٹرول ایجنسیاں، تین عدد شوز شاپ، دوعدد مردانہ اور تین عدد زنانہ کلاتھ ہاؤس، ایک گورنمنٹ پرائمری سکول بوائز، ایک مڈل سکول زنانہ یونیسف، دوعدد آبنوشی ٹیوب ویل، 27 عدد آبپاشی ٹیوب ویل، 3عدد بٹھ خشت، 5 ٹیلرزماسٹر ہاؤس، 3عدد پنکچرز والے، 2عدد زنانہ اور 2عدد مردانہ دینی مدارس، 14عدد پرچون دکان، 14عدد مساجد، الیکٹریکل دکان، حجام دکان، لوہار، ترکان اور موبائل دکان، سونا یوریا، سیمنٹ، ریت اور بجری سٹاک موجود ہیں۔ ایک عدد گائے فارم اور ایک عدد بکری فارم، 4عدد چھوٹے بڑے قبرستان موجود ہیں۔ ایک عدد آٹا چینی، ہومیو پیتھک ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آبادی اور سہولیات کے ہوتے ہوئے گاؤں شاہ گئی میں نمازِ جمعہ اور عیدین کے مشروعیت کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب
Related Fatwas
منگنی کے بعد اپنی منگیتر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنا اور ملنا
منگنی کے بعد اور نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنا اور اسی طرح ملنا کیا جائز…
ایک مجلس میں تین طلاقوں کا حکم
ہمارے علاقے میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھے تین طلاق دیے اس نے پہلے دیوبندی علما سے مسئلہ پوچھ لیا…
شوہر کا بیوی سے یہ کہنا کہ اگر میری فلاں بات نہ مانی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا کیا اس سے طلاق معلق ہوگی؟
ایک شخص کے سسرال والے اس کی سالی کی شادی کسی ایسی جگہ کرنا چاہ رہے تھےجس جگہ شادی پر یہ شخص…
جھوٹ بول کر یہ کہنا کہ میں نے بیوی کو طلاق دی ہے
میں برطانیہ میں رہتا ہوں، کچھ عرصہ پہلے میں آن لائن فیسبک پر لڑکیوں سے chatingکرتا تھا ،میں کئی لڑکیوں سے بات چیت…
کیا سنت کفن سے زیادہ کفن دینا جائز ہے
ہمارے علاقہ میں میت کو کفن دیتے وقت سنت کفن سےزیادہ کفن دیا جاتاہے،یعنی مرد کےلیےچارکپڑےاورعورت کےلیےچھ کپڑوں کا کفن بنایاجاتاہے،کیا شریعتِ…
پگڑی کی دکان خریدنے کا حکم
جس مارکیٹ میں میں کام کرتا ہوں وہ پگڑی کی مارکیٹ ہے، میں وہاں دکان خریدنا چاہ رہا ہوں، پوچھنا یہ تھا …