کیا سنت کفن سے زیادہ کفن دینا جائز ہے

Reviewed Updated September 27, 2025 18

Question

ہمارے علاقہ میں میت کو کفن دیتے وقت سنت کفن سےزیادہ کفن دیا جاتاہے،یعنی مرد کےلیےچارکپڑےاورعورت کےلیےچھ کپڑوں کا کفن بنایاجاتاہے،کیا شریعتِ مطہرہ میں اس اضافہ کی گنجائش ہے یانہیں؟

Answer

واضح رہے کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، چادر۔ اور عورت کو پانچ کپڑوں میں کفنانا سنت ہے؛ کرتا، ازار، سربند، سینہ بند، چادر۔ صورتِ مسئولہ میں میت(چاہےمردہویاعورت) کوسنت کفن سےزیادہ کفن دیناخلافِ سنت ہے،لہٰذا اہلِ علاقہ کواس سے احتراز کرنا چاہیے۔ مبسوط سرخسی میں ہے: "قال): وتكفن المرأة في خمسة أثواب والرجل في ثلاثة أثواب هكذا قال علي رضي الله عنه: كفن المرأة خمسة أثواب وكفن الرجل ثلاثة أثواب ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين". (کتاب الجنائز،کفن المرأة،ج2،ص72،ط:دارالمعرفۃ) بدائع الصنائع میں ہے: "وأما الكلام في كمية الكفن.فنقول: أكثر ما يكفن فيه الرجل ثلاثة أثواب: إزار، ورداء، وقميص وهذا عندنا......وروي عن علي رضي الله عنه أنه قال: " كفن المرأة خمسة أثواب، وكفن الرجل ثلاثة، " ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين "؛ ولأن حال ما بعد الموت يعتبر بحال حياته". (کتاب الجنائز،فصل كيفية وجوب التكفين،ج1،ص306،ط:دارالکتب العلمیہ) فقط واللہ اعلم

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy