منگنی کے بعد اپنی منگیتر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنا اور ملنا

Reviewed Updated May 10, 2026 21

Question

منگنی کے بعد اور نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنا اور اسی طرح ملنا  کیا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ کسی غیر محرم اجنبی عورت کے ساتھ بغیر کسی شرعی عذر کے باتیں کرنا اور ملنا نا جائز ہے،چونکہ منگنی کے بعد اور نکاح سے پہلےمنگیترغیر محرم اور اجنبی کے حکم میں ہوتی ہے۔لہذااس کے ساتھ موبائل فون پر باتیں کرنااورملنا جائز نہیں۔   ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى. (قوله وإلا لا) أي وإلا تكن عجوزا بل شابة لا يشمتها، ولا يرد السلام بلسانه قال في الخانية: وكذا الرجل مع المرأة إذا التقيا يسلم الرجل أولا، وإذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، وإن كانت شابة رد عليهافي نفسه، وكذاالرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ. (الدرالمختار مع ردالمحتار،ج:6 ،ص:369 ) فتویٰ نمبر : 7405/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب النکاح محرمات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy