بیوی کا حق مہر کے بدلے بھینس لینا

Reviewed Updated December 31, 2025 65

سوال

ایک نکاح میں حقِ مہر تین لاکھ (300,000) روپے مقرر کیا گیا تھا۔ بعد از نکاح شوہر نے حقِ مہر ادا کرنے کا ارادہ کیا تو بیوی نے  کہا کہ مجھے تین لاکھ روپے نہیں چاہیے، بلکہ اس کے بدلے فلاں مخصوص بھینس مجھے دے دی جائے۔ شوہر نے وہی بھینس بیوی کے حوالہ کر دی اور بیوی نے اسے قبول بھی کر لیا۔سوال یہ ہے کہ:کیا اس صورت میں شرعاً حقِ مہر ادا شمار ہوگا؟کیا روپے کے بدلے بھینس پر رضامندی ظاہر کرنا درست ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقد نکاح کے وقت جو مہر مقرر ہوجائے اس کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے، البتہ بیوی اگر مہر کے بدلے کوئی اور چیزلینے پر راضی ہو تو اس چیز کی حوالگی سے بھی مہر ادا ہوجائے گا ۔ لہذا صورت مسئولہ کےمطابق بیوی کا شوہر سے یہ کہنا کہ :"مجھے تین لاکھ(300000)روپے نہیں چاہیے بلکہ اس کے بدلے فلاں مخصوص بھینس دے دی جائے"بیوی کا حق مہر کے بدلے دوسری چیز لینے پر رضامندی ہے، چنانچہ جب شوہر نے وہی بھینس بیوی کے حوالہ  کردی اور بیوی نے اسے قبول  کرلیا تو شوہر کی طرف سے حق مہر ادا ہوگیا۔   ‌رجل تزوج امرأة على خادم ثم صالحها على شاة بعينها جاز... فإذا تزوجها على كر حنطة ثم صالحها من ذلك على كر شعير بعينه فهو جائز. (الفتاوى الهندية، كتاب الصلح وهو مشتمل على أحد وعشرين بابا، كتاب الصلح وهو مشتمل على أحد وعشرين بابا، ج:4،ص:235) فتویٰ نمبر : 7364/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب النکاح مہرکے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy