سالگرہ میں شرکت نہ کرنے پر رشتہ داروں کا ناراض ہونا

Reviewed Updated November 26, 2025 28

Question

 رشتے داروں میں یاآفسز میں جس کی پیدائش کا دن ہوتا ہے اس کی سالگرہ کا دن منایا جاتا ہے۔اگر شرکت نہ کریں تو منیجر،آفس مالکان یارشتےداروں سے ناراضگی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

Answer

واضح رہے کہ برتھ ڈے (سالگرہ) منانے کا شرعاً کوئی ثبوت نہیں، یہ غیر مسلموں کی ایک رسم ہے، جس میں عموماً طرح طرح کی خرافات شامل ہوتی ہیں، مثلاً: مخصوص لباس پہننا، موم بتیاں لگا کر کیک کاٹنا،موسیقی،مرد و زن کی مخلوط محفلیں،تصویر کشی وغیرہ۔ یہ سب امور ناجائز ہیں،لہٰذا مسلمانوں کو اس طرح کی فضول رسموں کا اہتمام کرنے،اس پر پیسہ خرچ کرنے اور اس میں شریک ہونے سے احتراز کرنا چاہیے۔ البتہ اگر شرکت نہ کرنے پر رشتہ دار ناراض ہوتے ہوں  توحکمت، نرمی اور اچھے انداز میں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے، اور جہاں تک ممکن ہوشرکت کرنے سے اجتناب کرناچاہیے۔   عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من تشبه بقوم فهو منهم."( سنن أبي داؤد،كتاب اللباس،باب ما جاءفي الأقبية،ج:2،ص:219) وقال القاري أي من شبه نفسه بالكفار مثلا من اللباس وغيره أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار(فهو منهم)أي في الإثم والخير.(عون المعبود وحاشية ابن القيم،باب في لبس الشهرة، ج:11،ص:51) (من تشبه بقوم):أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره،أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار.(فهو منهم):أي في الإثم والخير.قال الطيبي:هذا عام في الخلق والخلق والشعار،ولما كان الشعار أظهر في التشبه ذكر في هذا الباب.(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،کتاب اللباس،الفصل الثانی، ج:9 ،ص:247 ) فتویٰ نمبر : 6531/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-26 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) دیگرمتفرق مسائل

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy