واضح رہے کہ میت کے انتقال کے بعد اس کے ذمے لازم قرض اور وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد بقیہ مال اس کے ورثا کا حق بن کر ان کی ملکیت میں خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ،اور سب ورثا اس میں اپنے اپنے حصے کے بقدر مالک بن جاتے ہیں،اس لیے جب تک تمام ورثاکی صراحتا یا دلالۃ اجازت نہ ہو ،تو شرعی تقسیم سے پہلے کسی بھی وارث کے لیے اس میں تصرف کرنے کا حق حاصل نہیں ، اور اگر کوئی وارث اس میں تصرف کرے یا کسی حصے کو بیچ دے ، تو اس کی یہ بیع اور تصرف باقی ورثا کی اجازت پر موقوف رہے گا ،اگر وہ اجازت دیں،تو نافذ ہوگا ورنہ نہیں۔ صورت مسئولہ میں کسی بھائی کے لیے اپنی بہنوں کا حصہ ان کی اجازت کے بغیر فروخت کرنا جائز نہیں ،اگر کسی نے فروخت کیا ہو ،تو اس کا یہ معاملہ بہنوں کی اجازت پر موقوف رہے گی ،اگر وہ اجازت دیدیں،تو بیع نافذ ہوگا ورنہ نہیں،نیز بہنیں بھائیوں سے اپنے حصے کےمطالبے کا حق رکھتی ہیں۔ قال الله تعالى: ﴿ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ﴾ [النساء: 11] التصرف في ملك الغير بغير الإذن غير صحيح.( البناية شرح الهداية،باب اشتراط القبض لإنعقاد الهبة،ج:10،ص:163) لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار.(درر الحكام شرح مجلة الأحكام،المقالة الثانية في القواعد الكلية الفقهية،المادة:96،ج:1،ص:96) فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما تصرفا مضرا في حصة الآخر بدون إذنه صراحة أو دلالة وإذا تصرف يضمن. انظر المادة (96) .ويستفاد من ذكر لفظ (التصرف) بصورة مطلقة أنه كما لا يجوز له البيع والإيجار. والكي والهبة والقطع والاستهلاك فليس له أيضا أن يتصرف تصرفا كأخذه للسفر والهدم. مثال للبيع - لو باع أحد صاحبي الدار المشتركة حصته وحصة شريكه بدون إذنه لآخر فيكون البيع المذكور فضولا في حصة الشريك (البهجة) وللشريك المذكور إن شاء فسخ البيع في حصته وإن شاء أجاز البيع إذا وجدت شرائط الإجازة.( درر الحكام شرح مجلة الأحكام،الكتاب العاشرالشركات،المادة: 1075 كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر،ج:3،ص:29) فتویٰ نمبر : 4226/297/323 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) متفرقات
بہنوں کی اجازت کے بغیر ان کے حصے کو فروخت کرنا
Question
جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے ورثاء میں بیٹے بھی ہوں اور بیٹیاں بھی،تو کیا بیٹے اپنی بہنوں (یعنی مرحوم کی بیٹیوں) کے حصے کو ان کی اجازت اور مرضی کے بغیر فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر فروخت کریں تو شرعا اس بیع کی حیثیت کیا ہوگی؟
Answer
Related Fatwas
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے…
سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا
سی سی ٹی وی کیمرہ لگانا کیسا ہے؟جیسے دوکان میں یا گھر کے دروازے پر یاسکولوں اور مدرسوں وغیرہ میں لگایا جاتا…
عشاء کی سنت یا وتر میں مغرب کی قضا نماز کا یادآنا
عشاء کی سنت سے پہلے یا دوران سنت یا وتر سے پہلے یا وتر پڑھنے کے دوران صاحب ترتیب شخص کو مغرب…
کاروباری ترقی کے لیے کینیڈا سفر کرنا
ہجرت کى اقسام و احكام كيا ہيں؟ کاروباری ترقى کے لیے كنيڈا كي طرف ہجرت کا کیا حکم ہے؟
باپ کی زندگی میں مرنے والے بیٹے کا میراث میں حصہ
میرا ایک بھائی والد صاحب کی حیات میں وفات پا چکا ہے یعنی میرے والد صاحب اس وقت زندہ تھے کہ میرا…
یمان اور ایان نام رکھنا
یمان اور ایان کا معنی کیا ہے اور یہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟