واضح رہے کہ والد کی زندگی میں فوت ہونے والا بیٹا میراث کا مستحق نہیں ہوتا۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی سائل کا مرحوم بھائی اپنے والد صاحب کی زندگی میں وفات پا چکا ہو تو اُس کا اپنے والد صاحب کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ وشروطه ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا. (رد المحتار علی الدر المختار، 6/ 758) فتویٰ نمبر : 6637/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-10 کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام)
باپ کی زندگی میں مرنے والے بیٹے کا میراث میں حصہ
سوال
میرا ایک بھائی والد صاحب کی حیات میں وفات پا چکا ہے یعنی میرے والد صاحب اس وقت زندہ تھے کہ میرا بھائی فوت ہوگیا اس کے بعد میرا والد صاحب وفات ہو گیا تو کیا اب شریعت کی رو سے میرے والد صاحب کی میراث میں میرے مرحوم بھائی کا حصہ بنتا ہے یا نہیں؟
جواب
Related Fatwas
مجبوری کی صورت میں مناسکِ حج میں ترتیب کی رعایت
اس سال سعودی حکومت نے یہ پالیسی بنائی ہے ، کہ حجاج کے لیے قربانی صرف اور صرف سرکاری ادارہ ہی کرے…
زخمی گھوڑے کا گوشت کھانا
ہمارے علاقے میں پولو کھیل کے لئے گھوڑے پالنے کا رواج ہے اور کھیل کے دوران گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے…
صرف والد موجود ہونے کی صورت میں تقسیم میراث
ایک غیر شادی شدہ عورت انتقال کر چکی ہے، اس کے ورثا میں باپ،سوتیلی ماں ،تین حقیقی بھائی،دو حقیقی بہنیں،ایک باپ شریک…
احکام اسلام کی اپنی طرف سے تشریح و تأویل کرنے والے شخص کا حکم
1)اگر کسی شخص کا یہ عقیدہ ہو کہ جس نماز کا قرآن میں ذکر آیا ہے ،وہ یہ نہیں ہے جو لوگ…
جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا
ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم…
نقد کی نسبت زیادہ قیمت پر سونا ادھار بیچنا
زید نقد سونا خرید کربکر پرایک ہفتے کے ادھارپر فروخت کردیتا ہے، فریقین میں طے پاتا ہے کہ زید نے جس ریٹ…