واقعات

امام غزالیؒ اور ایک ننھے عاشقِ الٰہی کی قربانی (Imam Ghazali aur Bachay ki Qurbani)

امام غزالیؒ اور ننھے عاشقِ الٰہی کی قربانی — سبق آموز حکایت | Imam Ghazali aur Bachay ki Qurbani

Imam Ghazali (RA) ke Hajj qafle mein ek dus-barah saal ka ladka tha — na saamaan, na sarparast, bas ek jumla: “Jis ne mujhe apne ghar bulaya hai, Wahi mera kafeel hai.” Aur Eid ke din jab us ke paas qurbani ke liye kuch na tha to us ne jo kiya, woh is hikayat ka dil hai.

امام غزالی رحمہ اللہ حجِ بیت اللہ کے سفر پر تھے۔ قافلہ جہاں قیام کرتا، ایک دس بارہ سال کا لڑکا بڑے والہانہ انداز میں اِدھر اُدھر نظر آتا — اکثر امام صاحب کی مجلس میں آ کر مؤدبانہ انداز میں بیٹھ جاتا اور گفتگو سنتا۔ اس کے ذوق کو دیکھ کر امام صاحب نے پوچھا: بیٹا! اس طویل سفر میں تم تنہا ہو — تمہارا سرپرست کون ہے؟ بچہ بڑے بے نیازانہ انداز سے بولا: “حضرت! جس نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے، وہی میرا سرپرست ہے؛ انسانوں میں تو کوئی نہیں۔” پوچھا: سواری اور خوراک کا انتظام؟ کہا: “جس کا مہمان ہوں، وہی میرا کفیل ہے۔”

امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ بچے کے اس جواب سے اس کے ایمان و ایقان پر حیرت ہوئی — سوچا، اس بچے کی روحانیت ہم بڑوں کو بھی مات دے گئی۔ میں نے ارادہ کر لیا کہ اس کی ضروریات پوری کروں گا: سفر بھر اسے اپنے ساتھ سوار کرتا، اپنے ساتھ کھلاتا — مگر ہر منزل پر اسے تلاش کرنا پڑتا۔ وہ از خود کبھی کسی ضرورت کے لیے نہ آتا؛ قافلے سے ذرا ہٹ کر نوافل و ذکر میں محو رہتا۔

مکہ میں بھی وہی صورتِ حال

مکہ مکرمہ پہنچے تو یہی کیفیت رہی — امام صاحب اسے تلاش کر کر کے اس کی ضرورتیں پوری کرتے: مکہ ہو کہ منیٰ، مزدلفہ ہو کہ عرفات — ہر جگہ بے تابی سے ڈھونڈ کر ساتھ رکھتے۔ حج کے مناسک سے متعلق مکمل رہنمائی کے لیے ہمارا یہ مضمون پڑھیں: حج ادا کرنے کا آسان طریقہ۔

عید الاضحی کا دن — بچے کی انوکھی قربانی

قربانی کا دن آیا تو امام صاحب نے اپنے لیے جانور خرید کر قربانی کر دی، پھر بچے کو تلاش کرنے لگے کہ اس کے لیے بھی جانور خرید دیں۔ تلاش کرتے کرتے وہ نظر آیا — میدان میں دور ایک جگہ سر بہ سجدہ پڑا رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا:

“اے اللہ! میرے پاس تو کوئی رقم نہیں کہ تیرے نام پر کوئی جانور خرید کر ذبح کر دوں۔ اے میرے اللہ! تو میری جان کی قربانی قبول کر لے۔”

یہ کہتے کہتے اس کی ہچکی بند ہو گئی۔ امام صاحب نے جلدی سے اسے اٹھا کر گود میں بٹھا لیا، مگر وہ زار و قطار روتا رہا۔ تسلی کے لیے کہا: “میں تو تمہیں اسی لیے تلاش کر رہا تھا کہ تم میرے ساتھ چلو، اپنی پسند کا جانور خرید کر قربانی دے دو۔” مگر وہ اس قدر دردناک انداز سے گریہ و زاری کرتا رہا کہ اس کا جسم کانپ رہا تھا — بس بار بار یہی کہتا جاتا: “اے اللہ! میری قربانی قبول کر لے!” آخر اس نے ایک دل دوز آہ بھری، تڑپا، اور پھر ساکت ہو گیا۔ اس کا سر امام غزالیؒ کی گود میں تھا۔

The Lesson: Qurbani Maal Ki Nahi, Ikhlaas Ki Hai

Is hikayat ki rooh ek jumle mein hai: Allah ke darbar mein qurbani ki qeemat janwar ki qeemat se nahi, dene wale ke khulaas se nap-ti hai. Woh ladka jo safar bhar “Jis ka mehmaan hoon Wahi kafeel hai” kehta raha, Eid ke din khaali haath aaya to us ne woh diya jo us ke paas sab se qeemti tha — apni jaan ki peshkash. Qurbani ke shar’i masail aur is ki asal rooh ko tafseel se samajhne ke liye ye rehnumai parhein: قربانی کے مسائل و فضائل۔

ماخذ کے بارے میں شفاف نوٹ: یہ واقعہ امام غزالیؒ سے منسوب حکایات میں بیان ہوتا ہے — اس کا درجہ “حکایت” ہے، صحیح حدیث نہیں۔ اسے تاریخ کے قطعی واقعے کے طور پر نہیں، توکل، اخلاص اور عشقِ الٰہی کے سبق کے طور پر پڑھا جائے — اور یہی اس کی اصل قیمت ہے۔ ہماری سائٹ پر حکایت اور حدیث کو ہمیشہ الگ درج کر کے پیش کیا جاتا ہے۔

اس حکایت سے تین سبق

پہلا — توکل کا مطلب: اسباب اختیار کرنا الگ بات ہے، مگر دل کا سہارا اسباب نہیں، رب ہوتا ہے — بچے نے سفر میں کھانا بھی کھایا جب امام صاحب نے پیش کیا، مگر مانگا کبھی نہیں۔

دوسرا — قبولیت کا پیمانہ: اللہ کے ہاں بڑی قربانی وہ نہیں جس کی قیمت بڑی ہو، وہ ہے جس کے پیچھے دل بڑا ہو — قرآن کا بھی یہی اصول ہے کہ اللہ کو نہ گوشت پہنچتا ہے نہ خون، تقویٰ پہنچتا ہے (سورۃ الحج: 37)۔

تیسرا — بڑوں کا فرض: امام غزالیؒ جیسے عالم نے ایک بچے کی خدمت کو اپنی عبادت سمجھا — علم کا اصل پھل یہی نرمی اور تلاش کر کے ضرورت پوری کرنا ہے۔

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *