نماز جمعہ کی وجوب کے لیے فقہائے کرام کی وضع کردہ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شہری آبادی ہو ،یا شہری آبادی کے متصل ایسی آبادی ہو جہاں شہر کی طرح زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہوں،اور ان لوگوں اور شہر والوں کی غمی خوشی ایک ہو، اسی طرح اُس بڑے گاؤں کو بھی شہر کے حکم میں شمار کیا جائے گا ،جو آبادی کے لحاظ سے دو ڈھائی ہزار لوگوں پر مشتمل ہو ،اور وہاں لوگوں کو زندگی کی سہولیات بآسانی مل جاتے ہوں،تو وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے ،نیز جس علاقے میں پہلے سے جمعہ کی نماز ہورہی ہو اور اس کے بند کرنے سے علاقے میں انتشار پھیل جاتا ہو توا س کو اپنے حال پر ہی رکھنا چاہیے۔ صورت مسئولہ کے مطابق علاقہ مانتوئی جس میں 19 چھوٹے گاؤں موجود ہیں ،اور ان گاؤں کی آبادی 17000 سے اوپر ہے ،تو اگر یہ تمام چھوٹے چھوٹے گاؤں والوں کی غمی خوشی شریک ہو، ان کے مابین لین دین ،تعلقات ایک گاؤں جیسے ہوں،تو پھر یہ سب ایک ہی بڑے گاؤں کے حکم میں ہوں گے اور چونکہ اس کی آبادی بھی زیادہ ہے،اور ان کو زندگی کی سہولیات بھی میسر ہیں،اس لیے اس علاقے میں جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہوگا،لیکن اگر ان تمام گاؤں والوں کا آپس میں غمی خوشی کا تعلق نہ ہو اور نہ ان کے درمیان ایک گاؤں جیسے تعلقات ہوں،اور عرف میں بھی یہ الگ الگ گاؤں کہلاتے ہوں ،تو پھر ہر گاؤں الگ شمار ہوگا اور اس کی آبادی اور اس کی سہولیات کا الگ حساب ہوگا،تا ہم عرصہ دراز سے جس جامع مسجد میں نمازِ جمعہ جاری ہے اس کو جاری رکھنا چاہیے ۔ وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة،ج:2،ص:152) (قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2،ص:138) فتویٰ نمبر : 10718/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-08-27 کتاب الصلوۃ نمازِجمعہ
جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا
Question
ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی علاقہ مانتوئی میں قدیم زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم زمانہ تقریبا 200 سال پہلے سے نماز جمعہ پڑھی جاتی ہے ،اور اب تک پڑ ھی جاتی ہے ،بعض لوگوں کہتے ہیں کہ یہاں جمعہ ادا کرنا درست نہیں ہے ۔واضح رہے کہ علاقہ مانتوئی میں 19 چھوٹے گاؤں موجود ہیں ،جن کی کل آبادی مردم شماری کے لحاظ سے 17000 سے اوپر ہے ،ان گاؤں کے درمیان فاصلہ (ہر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک ) 18 گز سے 200 گز کے درمیان ہے،اور بعض گاؤں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ،نیز اس علاقے میں روزمرہ کی اشیاء بھی ملتی ہیں،مثلا،غلہ ،دوائی ،کپڑے،ڈیزل،پٹرول اور دیگر ماکولات و مشروبات۔ اس علاقے میں کل تقریبا 28 دکانیں، 6 میڈیکل سٹور،5 آتا چکی مشین بھی موجود ہیں، اس صورت حال کے پیش نظر کیا علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
Answer
Related Fatwas
رشتہ داروں اورآفت زدگان میں سے بہترمصرف زکوٰۃ
اگربرادری کے لوگ اپنی زکوٰۃ صرف اپنی ہی برادری کے مستحقین کو دیتے ہوں، تو جب قدرتی آفت (مثلاً : سیلاب وغیرہ)…
میراث کی تقسیم اور اس سے دستبرداری کا حکم
1۔ ایک شخص کا انتقال ہوا۔ اس کے ورثاء میں ایک بیوہ، دو بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ مرحوم کا ترکہ…
بیماری کی وجہ سے محمد نام تبدیل کرنے کا حکم
میرے بیٹے کا نام ”محمد بن عبد السلام“ ہے۔ وہ بہت بیمار رہتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ اس کا نام بدل…
قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم لینا
اگر کوئی شخص کسی خریدارکو کوئی چیز قسطوں پر، ایک متعین مدت کے ساتھ، نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پرفروخت کرے،…
پلازہ بننے سے پہلے اس میں دفتر خریدنا
میں نے پشاور میں ایک کمپنی کے ساتھ انوسمنٹ کرنی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کمپنی مختلف جگہوں پر…
غیر مسلم ممالک میں ایک مسجد میں دو بار جمعہ کی نماز کی جماعت کرنا
ايك مسجد میں مجمع كی كثرت كی وجہ سے دو، تين بار جمعہ كی نماز كروانا كيسا ہے؟ یہ پاکستان سے باہر…