قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے اضافی رقم لینا

Reviewed Updated December 25, 2025 31

Question

اگر کوئی شخص کسی خریدارکو کوئی چیز قسطوں پر، ایک متعین مدت کے ساتھ، نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پرفروخت کرے، اور خریدار طے شدہ مدت پر ادائیگی نہ کرسکے (یعنی تاخیر کرے)، تو کیا اس تاخیرکی بنیاد پراس سے اضافی رقم  کا مطالبہ شرعاً جائزہے یا نہیں؟ 

Answer

 شريعت مطہرہ کی روسے جس طرح نقد خرید و فروخت درست ہے اسی طرح قسطوارخریدوفروخت بھی جائز ہے، نیزنقد کے مقابلے میں قسطوارکی قیمت زیادہ رکھنا بھی جائز ہے۔ البتہ قسطوارکی صورت میں ادائیگی کی مدت اور قیمت کی تعیین ضروری ہے۔اورمقررکردہ قیمت سے زیادہ رقم لینا سود کے زمرے میں داخل ہو نےکی وجہ سے شرعا نا جائز ہے۔ صورت مسؤلہ کے مطابق اگر کوئی شخص کسی خریدار کو کوئی چیز قسطوں پر، ایک متعین مدت کے ساتھ، نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پرفروخت کرے، اور خریدار طے شدہ مدت پر ادائیگی نہ کرے بلکہ تاخیرکرے،تو شرعا اس تاخیر کی وجہ سے اس سے اضافی رقم کا مطالبہ کرنا سود کے زمرے میں داخل ہو نے کی وجہ سے جائز نہیں ہے۔   البيع ‌مع ‌تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح …يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط۔(شرح مجلة الأحکام العدلیة لسلیم رستم باز ، رقم المادة:246/245، ص:125) مقابلة الأجل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ‌ليؤجله ‌لم ‌يجز۔(المبسوط للسرخسي، كتاب البيوع، باب العيوب في البيوع،ج: 13، ص:142) فتویٰ نمبر : 4010/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب البیوع(خریدوفروخت) خریدوفروخت کے متفرق احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy