مشکوک شخص کو قاتل ٹھہرانا

Reviewed Updated October 2, 2025 65

سوال

اگر کہیں پر لاش مل جائے اور اسی جگہ ایک شخص ہو جو اپنے کسی کام میں مصروف ہو۔اور مقتول کے ورثا اس کو گرفتار کرلیں اور پولیس کے حوالہ کردیں تو کیا اس شخص کو قاتل ٹھہرانا درست ہے؟نیز  اس سے اس بنیاد پر قصاص یا دیت لی جاسکتی ہے یا نہیں؟حالانکہ وہ شخص بالکل لاعلمی کا اظہار کرکے اس سے انکاری بھی ہو۔

جواب

دعوی کے اثبات کے لیے مدعی کو شرعا دو عادل گواہ پیش کرنا لازم ہوتا ہے،بصورت دیگر مدعی علیہ کو قسم دی جاتی ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر مشکوک شخص قتل کا انکار کررہاہواور قتل کے گواہ بھی موجود نہ ہوں تو پھر اس کو قسم دی جائے گی،اگر وہ قسم اٹھائے تو بری الذمہ ہوگا ۔اور اگر وہ قسم سے انکار کرے تو اس صورت میں اس کو قید کیا جائے گا یہاں تک کہ یا تو اقرار کرلے اور یا قسم اٹھائے۔   البينة على المدعي واليمن على المنكر.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:76،ص:51) فإن كان في النفس فعند أبي حنيفة لا يقضى فيه لا بالقصاص ولا بالمال لكنه يحبس حتى يقر أو يحلف أبدا.(بدائع الصنائع،كتاب الدعوى،فصل في حكم الامتناع عن تحصيل اليمين،ج:6،ص:230) فتویٰ نمبر : 6493/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-02 کتاب القضاء الدعویٰ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy