واضح رہے کہ جب شوہر بیوی کی طرف نسبت کرکے طلاق کے الفاظ بول دے ،تو اس کے ساتھ بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے اگر چہ بیوی اس موقع پر حاضر نہ ہو ،بیوی کا سامنے ہونا طلاق کے لیے شرط نہیں ہے ،تین طلاق دینے کے بعد عورت مغلظہ بن جاتی ہے اور اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ اس صورت پر دوبارہ زندگی استوار کرسکتی ہے ،کہ و ہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی اور کے ساتھ شادی کرلے ،اوروہ اس سے ہمبستری بھی کرے پھر وہ شخص مرجائے یا اس کو طلاق دیدے،تو عدت گزرنے کے بعد یہ عورت اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے ، نیز طلاق اگر حمل کے دوران دی جائے تو عورت کی عدت وضع حمل ہوگی ،جب عورت بچہ جنے تو عدت ختم ہوجائے گی ،چاہے جتنے بھی دن گزرے ہوں، وضع حمل کے بعد اگر یہ عورت کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر اس شخص کو اس دوسری لڑکی نےگھڑی دی تھی اور اس نے جھوٹ بول کر یہ کہا کہ: اگر فلاں لڑکی نے مجھے یہ گھڑی دی ہو،تو مجھ پر اپنی بیوی تین طلاق" تو اس کے ساتھ اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئی تھیں،چاہے بیوی اس وقت موجود نہ بھی تھی ،نیز طلاق کے دوران عورت چونکہ حاملہ تھی اس وجہ سےعدت وضع حمل تھی اور وضع حمل کے ساتھ اس کی عدت پوری ہوگئی ،اس کے بعداگرحسب بیان شوہر کو معلوم تھا کہ اب یہ میری بیوی نہیں رہی اور پھر بھی وہ اس کے ساتھ ملتا اور ہمبستری کرتا رہا ،تو اس کا یہ عمل زنا شمار ہوکر حرام اور ناجائز تھا اس پر توبہ اور استغفار کرنا چاہیے ،لیکن اس کی وجہ سے عورت کی عدت پر کوئی اثر نہیں پڑا ،کیونکہ اس کی عدت وضع حمل کے ساتھ ختم ہوچکی تھی اور زنا کی وجہ سے عدت لازم نہیں ہوتی ، اس لیے وہ عورت دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد تھی ،پس جب وضع حمل کے بعد دوسرے آدمی سے نکاح کیا اور ہمبستری بھی کی ،تو وہ درست تھا ،اور پھر اس کے طلاق دینے اور عدت گزرنے کے بعد سابقہ شوہر کا دوبارہ نکاح بھی جائز اور درست ہے ۔ قال الله تعالى: ﴿ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ (البقرة: 230) و قال: ﴿وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ (الطلاق: 4) ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب صريح الطلاق،ج:3،ص:250) (إذا أضاف الطلاق إليها) كأنت طالق...(وقع)قال العلامة ابن عابدینؒ(قوله كأنت طالق) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الإشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك. (ردالمحتار،کتاب الطلاق،باب الصریح،مطلب فی قولہ:علي الطلاق من ذراعی،جلد 4،ص،471،469) لأن الزوج ينفرد بإيقاع الطلاق الثلاث، ولا يتوقف ذلك على علم المرأة.)المحيط البرهاني في الفقه النعماني،كتاب العتاق،الفصل السابع في الخصومات أربعة۔۔۔ج:4،ص:237) (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل.(دررالحكام شرح غرر الأحكام،كتاب الطلاق،ج:1،ص:359) لا تجب العدة على الزانية وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى كذا في شرح الطحاوي.(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،باب العدة،ج:1،ص:526) فتویٰ نمبر : 7289/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 عدت کے احکام
عدت گزرنے کے بعد شوہر کی ہمبستری سے عدت پر اثر
Question
ایک شخص کا دو لڑکیوں کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے ،اتفاقا ایک لڑکی نے اس آدمی کے ہاتھ پر گھڑی دیکھی اور کہا کہ یہ گھڑ ی آپ کو دوسری لڑکی نے دی ہے ،آدمی نے کہا کہ نہیں یہ دوسری لڑکی نے نہیں دی ہے ،لیکن وہ لڑکی بار بار اصرار کر رہی تھی ،تو اس آدمی نے لڑکی سےجھوٹ بول کر کہا کہ اگر فلاں لڑکی نے مجھے یہ گھڑی دی ہو،تو مجھ پر اپنی بیوی تین طلاق ،اب اس آدمی نے تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی لیکن چونکہ بیوی موجود نہیں تھی اس وجہ سے اس آدمی کو شک ہوا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور اس خوش فہمی میں مسلسل اپنی طلاق شدہ بیوی سے ملتا رہا ،پھر شک پڑنے پر علماءکرام سے معلوم ہوا کہ طلاق واقع ہوچکی ہے ،لیکن اس وقت اس کی بیوی حاملہ تھی ،جب وضع حمل ہوا تو نفاس کے بعد بھی شوہر اپنی بیوی کے ساتھ ہمبستری کرتا رہا جب نفاس کے بعد ایک حیض آیا ،تو شوہر نے اس بیوی کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کروایا ،دوسرے شخص نے حلالہ کرکے طلاق دی اور عدت کے بعد شوہر اول نے دوبارہ نکاح کیا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ: 1۔ بیوی کے غیر موجودگی میں طلاق کا کیا حکم ہے ؟ واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟2۔ محلل کہتا ہے کہ چونکہ وضع حمل اور ایک حیض گزرنے کے بعد شوہر اول نے ہمبستری کی ہے اس وجہ سے عدت نہیں گزری ،حالانکہ ایک حیض آنے کے بعد شوہر اول نے اس دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرایا تھا ،تو کیا اب یہ بیوی اول شوہر کے لیے حلال ہے یا دوبارہ حلالہ کرنا ہوگا؟3۔ ایک حیض آنے کے بعد دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح کرایا گیا ،تو کیا یہ حلالہ ہوگیا ہے یا نہیں؟
Answer
Related Fatwas
مناسخہ کی ایک صورت
محمد علی کا انتقال ہوا، اس کے ورثا میں ایک بیوہ (تاج بی بی )، تین بیٹے(محمد اسحاق، میراسلم اوراسماعیل )، اور…
بیوہ، چار بیٹوں اور تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث
ایک شخص فوت ہوا اس کے ورثا میں ایک بیوہ اور چار بیٹے اور تین بیٹیاں موجود ہیں۔ ان کے درمیان میراث…
تقسیم میراث بصورت مناسخہ
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ہم چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،…
قبضہ کرنے سے پہلے کسی چیز کو بیچنا
ایک شخص آن لائن کاروبار کرتا ہے اور آن لائن ایپس (APPS)کے ذریعے مبیع خرید کر قبضہ کیے بغیر زیادہ ثمن…
عورتوں کے لئے آبروں سے زائد بال اکھیڑ نا
کیا گنی بھنوؤں کو اوپر سے ترتیب دینا جائز ہے؟زائد بالوں کو جو بدنما لگ رہے ہوں جبکہ نہ کروانے سےشوہر کی…
طلاق کنائی کے بعد خلع کیا جائے تو عدت کے شروع کا حکم
میری 11 اپریل 2025 کو رخصتی ہوئی ،چونکہ میرےسسرال والے کراچی میں تھے اور میں پشاور میں رہتی تھی اس وجہ سے…