وکیل کا معین شخص کے علاوہ کسی دوسرے کو رقم حوالہ کرنا

Reviewed Updated October 7, 2025 19

Question

 میرا ایک عزیز ہے جو کہ مالی لحاظ سےبہت کمزور ہے مجھے کوئی اس کے بجلی بل کے لیے ہرماہ پانچ ہزار روپے بطور صدقہ دیتاہے جس کو میں ہر ماہ اس کے حوالے کردیتاہوں لیکن وہ آدمی اس سے بجلی بل نہیں دیتا اور بجلی بل کے لیے وہ محلے والوں سے مانگتا ہے اسی  طرح کام کاج بھی نہیں کرتا ویسے گھر میں بیٹھا رہتاہے اورمفت پیسوں نے اس کی عادت خراب کی ہوئی ہے اب وہ کوئی مزدوری نہیں کرتا،تو کیا میں اس شخص کے دئے گئے پانچ ہزارروپے کسی دوسرے غریب کو دے سکتاہوں تاکہ کسی دوسرے غریب مسلمان کا کام بھی ہوجائے اور وہ آدمی بھی محنت کرنا شروع کردے۔

Answer

جاننا چاہیے کہ جب کوئی کسی کو رقم دے کرکسی  خاص بندے کوحوالہ کرنے کا حکم کرے تو وکیل کے لیے اس حکم کی خلاف ورزی جائز نہیں بلکہ وہ رقم اسی شخص کو حوالہ کرے گا جس کا موکل نے کہا ہے۔ صورت مسؤلہ  کے مطابق جب صدقہ کرنے والا اسی شخص کے بجلی بل کے لئے پانچ ہزارروپے سائل  کودے تو وہ رقم اسی  بندے کو دینا لازم ہے چاہے وہ اس سے کچھ بھی کرے،دوسرے غریب کو موکل کی اجازت کے بغیر دینا جائزنہیں ۔     إذا قيدت الوكالة بقيد فليس للوكيل مخالفته۔( مجلة الأحكام العدلية ،ص: 287) فتویٰ نمبر : 3939/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-10-07 کتاب الوکالۃ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy