شوہر کے ظلم و تعنت کی بنا پر عدالتی تنسیخِ نکاح

Reviewed Updated December 25, 2025 24

Question

مسماۃ رحمت بی بی  نے محمد صادق کے ساتھ باقاعدہ نکاح کیا تھالیکن عورت کے بیان کے مطابق  شوہر کے مسلسل ظلم وستم،کئی بار تشدد اور گھر سے نکالنے کی وجہ سے بالآخر میں نے عدالت میں نکاح ختم کرنے کا کیس دائر کیا اور عدالت نے تحقیقات کے بعد تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی  جس پر شوہر راضی نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ تنسیخ نکاح  میں شوہر کی رضامندی ضروری ہے یا نہیں؟ اور سوال نامہ کے ساتھ لف   کورٹ فیصلہ کی فائل کے مطابق یہ عدالتی تنسیخ نکاح  قابل قبول ہے یا نہیں ؟ اوریہ خاتون آگے نکاح کرسکتی ہے یا نہیں؟رہنمائی فرمائیں۔

Answer

میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات  قائم ہونے کے بعد اگر شوہر باوجود قدرت کے بیوی کے حقوق اور نان نفقہ  وغیرہ کی ادائیگی سے انکار کرے  اور اس کے ساتھ ظلم وزیادتی کا رویہ رکھے جس کی وجہ سے عورت کےلیے خاوند کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں اصل حکم تو یہ ہے کہ عورت شوہر کو طلاق یا خلع پر راضی کرکے اس سے  چھٹکارا  حاصل کرے تاہم اگر شوہر نہ تو حقوق ادا کر رہا ہو اور نہ ہی طلاق یا خلع پر راضی ہوتا ہو تو ایسی صورت میں یہ شوہر  متعنت کہلاتا ہے اور متعنت کی بیوی کو مسلمان  حاکم یا عدالت کی طرف  رجوع کرنے  کا اختیار ہے۔ایسی صورت میں عدالت مکمل تحقیق کرے اگر عورت شوہر کے ظلم وستم کو ثابت کرے تو عدالت شوہر  کو حکم دے  کہ  یا تو بیوی کو صحیح طریقہ سے  آباد کرویا طلاق دے دو  اگر وہ آباد کرے تو ٹھیک ،اگر انکار کرے یا عدالت کا سمن ملنے  کے باوجود بغیر کسی عذر کے عدالت میں شوہر یا اس کا وکیل حاضر نہ ہو اور بیوی  اس کی زوجیت  سے نکلنا چاہتی ہو تو تب عدالت عورت کو تنسیخ نکاح کی ڈگری دے سکتی ہے اور یہ تنسیخ شرعا معتبر ہوگی اور عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ۔ صورت مسؤلہ میں  مذکورہ عورت کی طرف سے  عدالت میں دائر کردہ درخواست اور عدالتی فیصلہ میں ذکرشدہ تفصیلات  (جو سوال کے ساتھ منسلک ہیں)اگر حقیقت پر مبنی ہوں،کہ  عورت نے شوہر کے ظلم و زیادتی کی بنا پر نکاح سے علیحدگی کا دعویٰ دائر کیا ، جس کی شوہر نے ابتدائی طور پر تردید کی ، پھر عدالت نے دونوں فریقین کو آئندہ سماعت پر گواہ پیش کرنے کا حکم دیا ، جس  پرعورت  نےعدالت میں حاضر ہو کر اپنے دعویٰ پر معتبر گواہ پیش کیے، جبکہ شوہر بلا عذر شرعی نہ خود حاضر ہوا   اور نہ ہی اپنے وکیل کو پیش کیا ہو۔توشوہرکا تعنت ثابت ہونے کی وجہ سے عدالت کا فسخ نکاح کا فیصلہ شرعاً معتبر ہوگا۔اور تعنت ثابت ہونے کی صورت میں شوہر کا راضی نہ ہونے باوجود بھی  تنسیخ نکاح کا فیصلہ معتبر ہوگا۔جس کے بعدعورت  کے لیےعدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر نا جائز ہے۔   ولا يكون التفريق بذلك إلا عند القاضي أما بدون فسخ القاضي فلا ينفسخ النكاح بينهما.(الفتاوی الهندية،كتاب النكاح،ج:1،ص:292( وأما المتعنت الممتنع عن الإ نفاق ،ففي مجموع الأمير ما نصه : إن منعها نفقة الحال،فلها القيام،فإن لم يثبت عسره أنفق،أو طلق،وإلاطلق عليه۔قال محشيه :( وإلاطلق) أي عليه الحاكم من غير تلوم ۔(الحيلة الناجزة ، ص:3(13 فتویٰ نمبر : 7355/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-25 کتاب النکاح متفرقات

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy