واضح رہے کہ اگر کسی عورت کا نکاح ہوچکا ہو، مہر بھی مقرر کیا گیا ہو، اور اس کا شوہر وفات پا جائے، تو جتنا مہر مقرر کیا گیا ہو، وہ پورا مہر شوہر(مرحوم) کے ترکہ سے ادا کرنا واجب ہوگا، اگر چہ رخصتی نہ ہوئی ہو۔ فالمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين. (بدائع الصنائع، كتاب النكاح، فصل بيان ما يتأكد به المهر، ج:2، ص:291) فتویٰ نمبر : 7296/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب النکاح مہرکے احکام
رخصتی سے پہلے شوہر فوت ہوجائے تو مہر کا حکم
Question
اگر کسی عورت کا نکاح ہوچکا ہو، مہر بھی مقرر کیا گیا ہو، لیکن رخصتی نہ ہوئی ہو، اور شوہروفات پاجائے، تواس عورت کوکتنا مہرملے گا؟
Answer
Related Fatwas
گاؤں شاہ گئی میں نماز جمعہ کا قیام
ہمارے گاؤں شاہ گئی جوبرلب تجوڑی روڈ کے جنوب میں واقع ہےجس کی آبادی 2860 تک پہنچی ہے اور مندرجہ ذیل سہولیات…
تصاویر والی جگہ میں نماز پڑھنا
میں ایک میڈیکل اسٹوڈنٹ ہوں، ہماری کتابوں پر اکثر انسانی تصاویر بنی ہوتی ہیں،اور کتابیں کمرے میں، سامنے میز پر رکھی ہوتی…
کاشتکاری میں زمین اور پانی کےعلاوہ باقی چیزوں میں شرکت کا حکم
ہم نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ زراعت کا معاملہ طے کیا اس طور پر کہ زمین اس ساتھی کی طرف سے…
گمراہ عقائد رکھنے والے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کے درج ذیل نظریات ہوں تو اس کا…
ماربل كو پاک كرنے كا طریقہ
اگر سنگِ مرمر( ماربل یا ٹائل ) سیڑھی میں لگا ہوا ہو اور اس پر نجاست لگ جائے، پھر خشک ہو جائے…
تقسیم میراث بصورت مناسخہ
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے والدین کا انتقال ہوچکا ہے، ہم چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں،…