تشہد کے بعد دعائے ماثورہ میں”ربنا آتنا”کی جگہ “ربنا آتني” پڑهنا

Reviewed Updated December 31, 2025 20

Question

اگر کوئی شخص نماز میں تشہد کے بعد دعائے ماثورہ میں "ربنا آتنا" کی جگہ "ربنا آتني" کہے تو اس طرح کہنے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ اور اس تبدیلی کی وجہ سے نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا نماز فاسد ہوکر واجب الاعادہ ہوگی یا نماز درست ہوجائے گی؟

Answer

نماز میں تشہد کے بعد دعائے ماثورہ اصلًا قرآن یا مسنون الفاظ کے ساتھ پڑھنا افضل ہے، تاہم اگر کوئی شخص کسی لفظ یا صیغےمیں ایسی تبدیلی کرلےکہ جس سےنہ معنی میں تبدیلی ہوتی ہو اور نہ وہ کلام الناس کے مشابہ ہوتو اس سےنماز فاسد نہیں ہوتی۔ لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی نماز میں تشہد کے بعددعا:"اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار" ميں"رَبَّنَا آتِنَا" کی جگہ "رَبَّنَا آتِنِي"کہہ دے، تو چونکہ یہ دعا ہی ہے اور  اس میں کلام الناس سے مشابہت نہیں، لہذا اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی، البتہ ماثور صیغے کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔   ولو قال في صلاته اللهم ارزقني الحج لا تفسد صلاته؛ لأنه ‌لا ‌يشبه ‌كلام ‌الناس وإن قال اللهم اقض ديني تفسد؛ لأن هذا يشبه كلام الناس. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الصلاة، باب آداب الصلاة، فصل الشروع في الصلاة وبيان إحرامها وأحوالها، ج:1،ص:109) فتویٰ نمبر : 10869/297/321 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-12-31 کتاب الصلوۃ نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy