مسنون دعائیں

استخارہ کا طریقہ اور دعا

استخارہ کا طریقہ اور دعا | MasnoonDuayain
  1. استخارہ کا تعارف اور اہمیت
  2. استخارہ کی شرعی حیثیت اور فضیلت
  3. استخارہ کی اہمیت اور ضرورت
  4. استخارہ کا مسنون طریقہ
  5. استخارہ کی دعا اور اس کا ترجمہ
  6. استخارہ کا بہترین وقت
  7. استخارہ کے بعد کی کیفیت
  8. استخارہ اور خواب کی تعبیر
  9. استخارہ میں عام غلطیاں اور ان کا حل
  10. استخارہ کے روحانی اور نفسیاتی فوائد
  11. استخارہ سے متعلق سوالات اور شکوک
  12. نتیجہ اور خلاصہ

استخارہ کا تعارف اور اہمیت

استخارہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں “بھلائی مانگنا” یا “خیر طلب کرنا”。 اسلامی اصطلاح میں استخارہ سے مراد اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے میں بھلائی مانگنا ہے۔ یہ ایک ایسی دعا ہے جس میں بندہ اپنے رب سے درخواست کرتا ہے کہ اسے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

استخارہ کی دعا درحقیقت اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگنے کا ایک مسنون طریقہ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے امت کو ہر چھوٹے بڑے معاملے میں استخارہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اگر تمہیں کسی معاملے میں شک ہو تو استخارہ کرلو۔

استخارہ کی تعریف

استخارہ کی تعریف درج ذیل ہے:

  • لغوی معنی: خیر طلب کرنا، بھلائی مانگنا
  • اصطلاحی معنی: اللہ سے کسی معاملے میں بہتری اور رہنمائی مانگنا
  • شرعی معنی: دو رکعت نماز پڑھ کر مخصوص دعا مانگنا

استخارہ کا طریقہ سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے ضروری ہے کیونکہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کو فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور ان فیصلوں میں اللہ کی رہنمائی سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

استخارہ کی شرعی حیثیت اور فضیلت

استخارہ کی شرعی حیثیت کہ یہ سنت ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے نہ صرف خود استخارہ کیا بلکہ اپنی امت کو بھی استخارہ کرنے کی تعلیم دی۔

حدیث نمبر 6382

صحیح بخاری میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہم کو استخارہ سکھاتے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ ﷺ فرماتے تھے:

“جب تم میں سے کوئی کسی معاملے کا ارادہ کرے تو فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھے اور پھر یہ دعا پڑھے: اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ…”

(صحیح بخاری: 6382)

استخارہ کے فضائل

استخارہ کے بے شمار فضائل ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • اللہ کی رضا: استخارہ کرنے سے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے
  • صحیح فیصلہ: اللہ بندے کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق دیتا ہے
  • پریشانیوں سے نجات: استخارہ سے پریشانیاں دور ہوتی ہیں
  • برکت: استخارہ سے کام میں برکت ہوتی ہے

استخارہ کی اقسام

استخارہ کی دو اقسام ہیں:

  1. استخارہ بالدعا: صرف دعا مانگنا
  2. استخارہ بالصلاة: دو رکعت نماز کے بعد دعا مانگنا

مسنون طریقہ استخارہ بالصلاة ہے جس میں دو رکعت نماز پڑھ کر دعا مانگی جاتی ہے۔

استخارہ کی اہمیت اور ضرورت

استخارہ کی اہمیت آج کے دور میں اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے جب انسان مختلف الجھنوں اور مشکلات کا شکار ہے۔ استخارہ درحقیقت اللہ سے تعلق قائم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

جدید دور میں استخارہ کی ضرورت

آج کے دور میں جب:

  • فیصلوں کی کثرت: روزانہ سینکڑوں فیصلے کرنے پڑتے ہیں
  • ذمہ داریاں: ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
  • تناؤ: ذہنی تناؤ اور پریشانیاں عام ہیں
  • مادہ پرستی: مادہ پرستی کے دور میں روحانی رہنمائی کی ضرورت

ان تمام مسائل کا حل استخارہ میں پوشیدہ ہے۔

زندگی کے کن معاملات میں استخارہ کریں؟

استخارہ درج ذیل معاملات میں کیا جا سکتا ہے:

  • شادی بیاہ: رشتہ طے کرنے سے پہلے
  • کاروبار: نیا کاروبار شروع کرنے سے پہلے
  • ملازمت: نوکری تبدیل کرنے یا نئی ملازمت شروع کرنے سے پہلے
  • سفر: سفر پر جانے سے پہلے
  • رہائش: گھر خریدنا یا تبدیل کرنا
  • تعلیم: تعلیمی میدان میں فیصلے کرنے سے پہلے

استخارہ کا مسنون طریقہ

استخارہ کا مسنون طریقہ درج ذیل ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے خود امت کو سکھایا ہے:

نماز استخارہ کا طریقہ

  1. وضو: پہلے اچھی طرح وضو کریں
  2. نیت: دل میں نیت کریں کہ آپ استخارہ کی نماز پڑھ رہے ہیں
  3. دو رکعت نماز: فرض نماز کے علاوہ دو رکعت نماز پڑھیں
  4. دعا: نماز کے بعد استخارہ کی دعا پڑھیں

نماز کی تفصیل

  • پہلی رکعت: سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت پڑھ سکتے ہیں
  • دوسری رکعت: سورہ فاتحہ کے بعد کوئی بھی سورت پڑھ سکتے ہیں
  • تسبیحات: نماز میں معمول کے مطابق تسبیحات پڑھیں

استخارہ کی نیت

استخارہ کی نیت درج ذیل طریقے سے کی جا سکتی ہے:

“میں دو رکعت نماز استخارہ پڑھ رہا/رہی ہوں اللہ کے لیے”

نیت دل سے کرنا ضروری ہے، زبان سے بولنا ضروری نہیں۔

استخارہ کی دعا اور اس کا ترجمہ

استخارہ کی دعا نبی اکرم ﷺ نے خود سکھائی ہے اور اسے ہر مسلمان کو یاد رکھنا چاہیے۔

استخارہ کی مکمل دعا

استخارہ کا طریقہ اور دعا
دعائے استخارہ

اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اَللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ (یہاں اپنا معاملہ ذکر کریں) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ

استخارہ کی دعا کا اردو ترجمہ

“اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تیرے پاس بھلائی مانگتا ہوں، تیری قدرت کے ذریعے طاقت مانگتا ہوں، اور تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں۔ بے شک تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا، اور تو غیبوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، میرے لیے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ معاملہ میرے لیے میرے دین، میرے معاش اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور میرے لیے بھلائی مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔” (صحیح بخاری: 1166)

استخارہ کی دعا پڑھنے کا طریقہ

  • معاملہ کا ذکر: دعا میں “ہذا الامر” کی جگہ اپنا معاملہ ذکر کریں
  • دل سے دعا: دعا کو دل سے پڑھیں اور اللہ سے رابطہ محسوس کریں
  • توجہ: دعا کے وقت پوری توجہ اللہ کی طرف ہونی چاہیے

استخارہ کا بہترین وقت

استخارہ کا صحیح وقت وہ ہے جب انسان پوری یکسوئی کے ساتھ اللہ سے دعا مانگ سکے۔ تاہم کچھ اوقات خصوصی فضیلت کے حامل ہیں۔

مستحب اوقات

  • تہجد کا وقت: رات کے آخری پہر
  • نماز فجر کے بعد: صبح کے اول اوقات
  • جمعہ کی رات: جمعہ کی رات اور دن
  • عشاء کے بعد: عشاء کی نماز کے بعد

ناپسندیدہ اوقات

  • طلوع آفتاب: سورج نکلتے وقت
  • زوال آفتاب: دوپہر کے وقت سورج کے زوال پر
  • غروب آفتاب: سورج ڈوبتے وقت

استخارہ کی تعداد

  • ایک بار: کم از کم ایک بار استخارہ کرنا
  • سات بار: اگر واضح فیصلہ نہ ہو تو سات بار استخارہ کریں
  • مسلسل: جب تک واضح فیصلہ نہ ہو مسلسل استخارہ جاری رکھیں

استخارہ کے بعد کی کیفیت

استخارہ کے بعد انسان کو اپنے دل کی رجحان پر توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ دل میں ایک رغبت یا بےزاری پیدا فرما دیتا ہے۔

استخارہ کے بعد کیسے محسوس ہوتا ہے؟

استخارہ کے بعد درج ذیل کیفیات محسوس ہو سکتی ہیں:

  • دل کا میلان: دل کا کسی طرف مائل ہو جانا
  • سکون قلب: دل کا مطمئن ہو جانا
  • آسانی: کام کے آسان ہونے کے راستے کھلنا
  • بے چینی: اگر کام ٹھیک نہ ہو تو بے چینی محسوس ہونا

استخارہ کے بعد کی دعا

استخارہ کے بعد درج ذیل دعا مانگ سکتے ہیں:

“اَللّٰهُمَّ اخْتَرْ لِي وَاجْتَبْ، اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ”
“اے اللہ! میرے لیے انتخاب کر اور پسند کر، اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے تیرے پاس بھلائی مانگتا ہوں”

استخارہ کے بعد ایکشن

  • صبر: استخارہ کے بعد صبر سے کام لیں
  • توکل: اللہ پر بھروسہ رکھیں
  • عمل: مناسب action لیں
  • رضا: اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں

استخارہ کی مختصر دعا

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا فرماتے:  اَللَٰهُمَّ خِرْ لِيْ وَاخْتَرْ لِيْ

ترجمہ: ”اے اللہ! میرے لیے بہتر کا انتخاب فرما، اور میرے لیے بہتر کوپسند فرما۔ (سنن ترمذی: 3516)

استخارہ اور خواب کی تعبیر

استخارہ اور خواب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ استخارہ کے بعد خواب کے ذریعے رہنمائی فرما دیتا ہے۔

خواب کی شرعی حیثیت

  • نبیوں کے لیے: نبیوں کے لیے خواب وحی ہوتے تھے
  • مومنین کے لیے: مومنین کے لیے خواب رحمت ہوتے ہیں
  • 45ویں حصہ: خواب نبوت کا 45واں حصہ ہیں

استخارہ کے بعد خواب

استخارہ کے بعد درج ذیل قسم کے خواب آ سکتے ہیں:

  • سبز رنگ: خیر و برکت کی علامت
  • پانی: رزق اور رحمت کی علامت
  • روشنی: ہدایت اور راستے کی علامت
  • اندھیرا: مشکل اور پریشانی کی علامت

خوابوں کی تعبیر

  • ماہر سے مشورہ: خواب کی تعبیر کے لیے ماہر عالم  سے مشورہ کریں
  • شرعی تعبیر: شرعی اصولوں کے مطابق تعبیر لیں
  • خود ساختہ تعبیر: خود سے تعبیر کرنے سے پرہیز کریں

استخارہ میں عام غلطیاں اور ان کا حل

استخارہ میں عام طور پر لوگ کئی غلطیاں کرتے ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔

عام غلطیاں

  1. بے صبری: استخارہ کے فوراً بعد نتیجہ چاہنا
  2. خواب کا انتظار: صرف خواب کا انتظار کرنا
  3. دعا نہ پڑھنا: نماز تو پڑھ لینا مگر دعا نہ پڑھنا
  4. نیت کا خیال نہ رکھنا: صحیح نیت نہ کرنا
  5. توکل نہ کرنا: استخارہ کے بعد اللہ پر بھروسہ نہ کرنا

ان کا حل

  • صبر: استخارہ کے بعد صبر سے کام لیں
  • دل کی بات سنیں: دل کی رجحان پر توجہ دیں
  • ماہر سے مشورہ: ضرورت پڑنے پر علماء کرام سے مشورہ کریں۔
  • مسلسل استخارہ: اگر فیصلہ واضح نہ ہو تو مسلسل استخارہ کریں

استخارہ کے روحانی اور نفسیاتی فوائد

استخارہ کے فوائد صرف روحانی ہی نہیں بلکہ نفسیاتی بھی ہیں۔ جدید سائنس نے بھی دعا اور meditation یعنہ مراقبہ کے فوائد تسلیم کیے ہیں۔

روحانی فوائد

  • اللہ سے تعلق: اللہ سے براہ راست تعلق قائم ہوتا ہے
  • توکل: اللہ پر بھروسہ بڑھتا ہے
  • رضا: اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا سیکھتے ہیں
  • اطمینان: دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے

نفسیاتی فوائد

  • ذہنی سکون: ذہنی تناؤ میں کمی
  • فیصلہ کرنے کی صلاحیت: فیصلہ کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے
  • اعتماد: خود اعتمادی میں اضافہ
  • positive سوچ: مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے

جدید سائنس کی روشنی میں

جدید سائنس نے بھی دعا اور meditation یعنی مراقبہ کے درج ذیل فوائد تسلیم کیے ہیں:

  • دماغی waves: دماغی لہروں میں بہتری
  • blood pressure: بلڈ پریشر میں کمی
  • stress hormones: تناؤ کے ہارمونز میں کمی
  • immune system: قوت مدافعت میں اضافہ

استخارہ سے متعلق سوالات اور شکوک

استخارہ سے متعلق لوگوں کے ذہن میں کئی سوالات اور شکوک پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔

عام سوالات

سوال: کیا استخارہ کے بعد خواب آنا ضروری ہے؟
جواب: نہیں، خواب آنا ضروری نہیں ہے۔ خواب صرف ایک ذریعہ ہیں، ضروری نہیں۔

سوال: اگر استخارہ کے بعد دل میں کوئی inclination نہ ہو تو کیا کریں؟
جواب: مسلسل استخارہ جاری رکھیں اور علماء کرام سے مشورہ کریں۔

سوال: کیا استخارہ کے بعد اپنی عقل استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، عقل استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔ استخارہ عقل کی جگہ نہیں لیتا۔

سوال: کیا عورت حیض کی حالت میں استخارہ کر سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، صرف دعا مانگ سکتی ہے، نماز نہیں پڑھ سکتی۔

شکوک کا ازالہ

  • استخارہ جادو نہیں: استخارہ کو جادو نہ سمجھیں
  • فوری نتیجہ: فوری نتیجہ کی توقع نہ رکھیں
  • ذاتی کوشش: اپنی کوشش جاری رکھیں
  • علماء سے رابطہ: کسی بھی شک میں علماء سے رابطہ کریں

نتیجہ اور خلاصہ

استخارہ درحقیقت اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ نہ صرف ہمارے فیصلوں میں درستی لاتا ہے بلکہ ہمارے اللہ کے ساتھ تعلق کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

Key Takeaways

  • استخارہ سنت ہے: استخارہ کرنا سنت مؤکدہ ہے
  • ہر معاملے میں: ہر چھوٹے بڑے معاملے میں استخارہ کریں
  • مسنون طریقہ: مسنون طریقے سے استخارہ کریں
  • صبر اور توکل: استخارہ کے بعد صبر اور توکل سے کام لیں
  • دل کی بات: دل کے رجحان پر توجہ دیں

آخری بات

استخارہ درحقیقت اللہ کے ساتھ ایک خصوصی رابطہ ہے۔ جب بندہ اپنے رب کے سامنے دست طلب دراز کرتا ہے تو رب کریم ضرور اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر معاملے میں استخارہ کو اہمیت دیں اور اللہ سے رہنمائی مانگتے رہیں۔

سوالات اور جوابات (FAQ)

سوال: استخارہ کی دعا کب پڑھی جاتی ہے؟
جواب: استخارہ کی دعا دو رکعت نماز کے بعد پڑھی جاتی ہے۔

سوال: کیا استخارہ کے لیے خاص وقت مقرر ہے؟
جواب: استخارہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے سوائے مکروہ اوقات کے۔

سوال: استخارہ کے بعد خواب نہ آئے تو کیا کریں؟
جواب: خواب ضروری نہیں ہے، دل کی رجحان پر توجہ دیں۔

سوال: کیا عورت استخارہ کر سکتی ہے؟
جواب: جی ہاں، عورت بھی استخارہ کر سکتی ہے۔

سوال: استخارہ کتنی بار کرنا چاہیے؟
جواب: ایک بار سے لے کر سات بار یا جب تک واضح فیصلہ نہ ہو۔

سوال: کیا استخارہ کے بعد اپنی عقل استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، عقل استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔

سوال: استخارہ کے لیے کونسی سورتیں پڑھنی چاہئیں؟
جواب: کوئی بھی سورت پڑھ سکتے ہیں، کوئی خاص سورت مقرر نہیں۔

سوال: کیا استخارہ کے بعد کام میں برکت آتی ہے؟
جواب: جی ہاں، استخارہ سے کام میں برکت ہوتی ہے۔

سوال: استخارہ کے لیے کس طرح کی نیت کرنی چاہیے؟
جواب: دل میں نیت کرنی چاہیے کہ استخارہ کی نماز پڑھ رہا ہوں۔

سوال: کیا استخارہ کے بعد فیصلہ واضح ہو جاتا ہے؟
جواب: زیادہ تر cases میں فیصلہ واضح ہو جاتا ہے۔


یوٹیوب ویڈیو: استخارہ کی اہمیت اور طریقہ

استخارہ کی مکمل guide


ختم شد

یہ مضمون استخارہ کی دعا اور طریقہ پر مشتمل ہے۔ لہذا اگر مزید آپ کو رہنمائی لینی ہو تو ضرور کمنٹ کریں ۔ اور اگر حقیقت میں آپ کو ہمارے مضمون سے فائدہ ہوا ہو تو اپنے دوست احباب سے بھی شئیر کریں ۔ جزاکم اللہ فی الدارین۔

1 Comment

  1. Dr. Niaz February 7, 2026

    کسی بھی کام سے پہلے نبی کا عمل استخارہ (مشورہ)کا تھا اور یہ قرآنی حکم بھی ہے ۔ لہذا کسی بھی عمل میں پہلے استخارہ اپنی عادت بنانا قرآنی ہدایت اور نبوی عمل ہے۔

Leave a Comment

Your email will not be published. Required fields are marked *