والدین کابچے کامحمد نام رکھنے کی نیت کرنا

Reviewed Updated November 26, 2025 23

Question

اگر پیدائش سے پہلے یہ نیت کی ہو کہ اگر بیٹا پیدا ہوا تو اس کا نام محمد رکھنا ہے اور پیدائش کے بعد میاں محمد سعد نام رکھ دیا جائے تو کیا ایسا کرنادرست ہے؟

Answer

"محمد" حضورِ اکرم ﷺ ایک اسم گرامی ہے، جو اللہ تعالی نے آپ ﷺ کے لیے منتخب فرمایا۔ نیز آپ ﷺ نے اپنے نام پر نام رکھنے کی ترغیب بھی دی ہے، لہذا اپنے بچے کانام "محمد" رکھنا افضل ومستحسن ہونے کے ساتھ ساتھ باعثِ برکت ہے۔لیکن اگر کوئی شخص یہ ارادہ کرلے کہ میں اپنے بیٹے کا نام محمد رکھوں گاتو اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ ضروریہ نام رکھ لےبلکہ اس کی جگہ کوئی اور نام رکھنے کی بھی گنجائش ہے ۔ لہذا صورت مسؤلہ میں بچے کی پیدائش سے پہلے اگرارادہ ہو کہ اس کا نام "محمد" رکھیں گے تو یہ شرعی نذر (منت) کے حکم میں  نہیں ہے، کہ اس کا پورا کرنا ضروری ہو،  اس لیے اگر بعد میں  محمدسعدنام رکھ لے تو شرعا اس کی  اجازت ہے۔   عن أبي هريرةعن النبي صلى الله عليه وسلم قال:تسموا ‌باسمي ‌ولا ‌تكنوا بكنيتي.(صحيح البخاري،كتاب العلم باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم ،ج:1،ص:52، رقم الحدیث:110) قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، ‌وأفضلها ‌بعدهما ‌محمد، ‌ثم أحمد ثم إبراهيم اهـ.(رد المحتارعلی الدر المختار،كتاب الحضروالإباحة،قوله أحب الأسماء…،ج :6،ص :417) فتویٰ نمبر : 6531/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-26 کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) ناموں کابیان

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy