جنوبی وزیرستان علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا

Reviewed Updated September 27, 2025 32

Question

ضلع جنوبی وزیر ستان تحصیل شکئی  علاقہ مانتوئی میں قدیم  زمانے سے جامع مسجد بنام(جامع مسجد درس) موجود ہے، جس میں قدیم زمانہ تقریبا 200 سال پہلے سے  نماز جمعہ پڑھی جاتی ہے ،اور اب تک پڑ ھی جاتی ہے ،بعض لوگوں کہتے ہیں کہ یہاں جمعہ ادا کرنا درست نہیں ہے ۔واضح رہے کہ علاقہ مانتوئی میں 19 چھوٹے گاؤں موجود ہیں ،جن کی کل آبادی مردم شماری کے لحاظ سے 17000 سے اوپر ہے ،ان گاؤں کے درمیان فاصلہ (ہر  ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک ) 18 گز سے 200 گز کے درمیان ہے،اور بعض گاؤں ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ،نیز اس علاقے میں روزمرہ کی اشیاء  بھی ملتی ہیں،مثلا،غلہ ،دوائی ،کپڑے،ڈیزل،پٹرول اور دیگر ماکولات و  مشروبات۔ اس علاقے میں کل تقریبا 28 دکانیں، 6 میڈیکل سٹور،5 آتا چکی مشین  بھی موجود ہیں، اس صورت حال کے پیش نظر کیا علاقہ مانتوئی میں نماز جمعہ پڑھنا جائز  ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

Answer

نماز جمعہ کی وجوب  کے لیے فقہائے کرام کی  وضع کردہ شرائط میں سے  ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ شہری آبادی ہو ،یا شہری آبادی کے متصل ایسی آبادی ہو جہاں شہر کی طرح زندگی کی تمام تر سہولیات میسر ہوں،اور ان لوگوں اور شہر والوں کی غمی خوشی ایک ہو، اسی طرح اُس بڑے گاؤں کو بھی شہر کے حکم میں شمار کیا جائے گا ،جو آبادی کے لحاظ سے دو ڈھائی ہزار لوگوں پر مشتمل ہو ،اور وہاں لوگوں کو زندگی کی سہولیات بآسانی مل جاتے ہوں،تو وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہے ،نیز جس علاقے میں پہلے سے جمعہ کی نماز ہورہی ہو اور اس کے بند کرنے سے علاقے میں انتشار پھیل جاتا ہو توا س کو اپنے حال پر ہی رکھنا چاہیے۔ صورت مسئولہ کے مطابق علاقہ مانتوئی جس میں 19 چھوٹے گاؤں موجود ہیں ،اور ان گاؤں کی آبادی 17000 سے اوپر ہے ،تو اگر یہ تمام چھوٹے چھوٹے گاؤں والوں کی  غمی خوشی شریک ہو، ان کے مابین لین دین ،تعلقات ایک گاؤں جیسے ہوں،تو پھر یہ سب ایک ہی بڑے گاؤں کے حکم میں ہوں گے اور چونکہ اس کی آبادی بھی زیادہ ہے،اور ان کو زندگی کی سہولیات بھی میسر ہیں،اس لیے اس علاقے میں  جمعہ کی نماز ادا کرنا جائز ہوگا،لیکن اگر ان تمام گاؤں والوں کا آپس میں غمی خوشی کا تعلق نہ ہو اور نہ ان کے درمیان ایک گاؤں جیسے تعلقات ہوں،اور عرف میں بھی یہ الگ الگ گاؤں کہلاتے ہوں ،تو پھر ہر گاؤں الگ شمار ہوگا اور اس کی آبادی اور اس کی سہولیات کا  الگ حساب ہوگا،تا ہم عرصہ دراز سے جس جامع مسجد میں نمازِ جمعہ جاری ہے اس کو جاری رکھنا چاہیے ۔   وفي حد المصر أقوال كثيرة اختاروا منها قولين: أحدهما ما في المختصر ثانيهما ما عزوه لأبي حنيفة أنه بلدة كبيرة فيها سكك وأسواق ولها رساتيق وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم بحشمه وعلمه أو علم غيره والناس يرجعون إليه في الحوادث قال في البدائع، وهو الأصح وتبعه الشارح، وهو أخص مما في المختصر.(البحر الرائق شرح كنز الدقائق،كتاب الصلاة،باب صلاة الجمعة،ج:2،ص:152) (قوله وفي القهستاني إلخ) تأييد للمتن، وعبارة القهستاني ‌تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة،باب الجمعة،ج:2،ص:138)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy