قرض خواہ کو وکیل بالاجرت بنانا

Reviewed Updated May 3, 2026 27

Question

میں سپلائی کا کام کرتا ہوں بڑے پیمانے پر چیزوں کی خریداری کرتا ہوں، بعض دفعہ میرے پاس ادائیگی کے لئے کل رقم نہیں ہوتی ہے، تو میں ایک ایسے آدمی سے بات کرتا ہوں، جو پیسے بھجوانے کا کاروبار کرتا ہے، کہ آپ مثلاً یہ تیس لاکھ لے لیں اور اس کے ساتھ  دس لاکھ روپے اپنے ملالیں جو میرے اوپر قرض ہوگا اور بائع(فروخت کرنے والے) کو ادائیگی کریں، اور پھر میں آپ کو قسطوار رقم واپس کروں گا، اور"حق الخدمت" ہر لاکھ پر مثلاً تین سو روپے اضافی دوں گا۔ اور وہ اس پر راضی ہو جاتا ہے تو کیا شرعاً یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر ناجائز ہو تو اس کی جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟

Answer

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو قرض دے دے تو مقروض سے کسی قسم کا نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ تاہم، اگر کوئی شخص قرض خواہ کو کسی کام کے لئے وکیل بالاجرت بنائے تو یہ جائز ہے؛ کیونکہ ایک آزاد شخص کا اپنی خدمات کے عوض اجرت وصول کرنا جائز ہے، البتہ اجرت اور عمل کی تعیین پہلے سے ہونا ضروری ہے تاکہ بعد میں جہالت کی وجہ سے باہم جھگڑے کی صورت پیش نہ آئے۔ صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا کسی سے قرض لینا اور پھر اسی کو اجرت کے عوض رقم بھجوانے کا کہنا جائز ہے بشرطیکہ رقم بھجوانے کی اجرت عرف کے مطابق مقرر کی جائے چنانچہ اگر عرف سے زیادہ مقرر کی جائے تو یہ سود کے لئے حیلہ متصور ہو کر ناجائز ہوگا۔   (وأما بيان) (أنواعها) فنقول إنها نوعان: نوع يرد على منافع الأعيان كاستئجار الدور...و نوع يرد على العمل كاستئجار المحترفين للأعمال كالقصارة والخياطة والكتابة وما أشبه ذلك، كذا في المحيط. (الفتاوى الهندية،كتاب الإجارة،ج:4،ص:411) ‌‌إذا ‌أخذ ‌الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها. (شرح فتح القديرعلى الهداية،كتاب الوكالة،ج:8،ص:3) إذا أقرض رجلا دراهم أو دنانير ليشتري ‌المستقرض من ‌المقرض متاعا بثمن غال فهو مكروه، وإن لم يكن شراء المتاع مشروطا في القرض، ولكن ‌المستقرض اشترى من ‌المقرض بعد القرض متاعا بثمن غال، فعلى قول الكرخي لا بأس به، وذكر الخصاف في كتابه، وقال: ما أحب له ذلك، وذكر شمس الأئمة الحلواني أنه حرام؛ لأن هذا قرض جر منفعة. (المحيط البرهاني،كتاب الاستحسان و الكراهية،ج:5،ص:390) فتویٰ نمبر : 4043/297/322 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الوکالۃ

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy