مشت زنی (ہاتھ سے شہوت پوری کرنا) ایک ایسی بری عادت ہے جس سے بہت سے نوجوان نادانستہ طور پر یا بوجہ شہوت پر قابو نہ پانے کے شکار ہو جاتے ہیں۔ اکثر لوگ اس فعل بد کی شرعی حیثیت اور اس کے گناہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں: “کیا مشت زنی بڑی گناہ ہے؟” اسلامی تعلیمات اس فعل بد کو حرام اور گناہ کبیرہ قرار دیتی ہیں۔
یہ مضمون مشت زنی سے بچنے کے لیے قرآنی آیات، احادیث مبارکہ، اور مؤثر وظائف پر روشنی ڈالے گا، ساتھ ہی اس کے نقصانات اور علاج کے طریقوں پر بھی بات کرے گا۔
یہ مضمون آپ کو مشت زنی سے بچنے کا وظیفہ، وسوسوں سے نجات کا وظیفہ، اور گناہ سے بچنے کے روحانی علاج فراہم کرے گا۔
مشت زنی کا شرعی حکم: گناہ کبیرہ اور اس کی حرمت
مشت زنی کا شرعی حکم اسلامی فقہ میں واضح ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے اس کی حرمت ثابت ہے۔
قرآن کریم کی روشنی میں
ارشاد باری تعالیٰ ہے
﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ﴾ [المؤمنون:۵ تا ۸]
ترجمہ: “اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔” (ترجمہ از شیخ الہند)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی نور اللہ مرقدہ، اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
” {فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰئکَ هُمُ الْعٰدُوْنَ}، یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی قاعدہ سے حاصل شدہ لونڈی کے ساتھ شرعی قاعدے کے مطابق قضاءِ شہوت کے علاوہ اور کوئی بھی صورت شہوت پورا کرنے کی حلال نہیں، اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت شرعاً اس پر حرام ہے اس سے نکاح بھی حکمِ زنا ہے، اور اپنی بیوی یا لونڈی سے حیض و نفاس کی حالت میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے۔ یعنی کسی مرد یا لڑکے سے یا کسی جانور سے شہوت پوری کرنا بھی۔ اور جمہور کے نزدیک استمنا بالید یعنی اپنے ہاتھ سے منی خارج کرلینا بھی اس میں داخل ہے”۔
(از تفسیر بیان القرآن۔ قرطبی۔ بحر محیط وغیرہ) (معارف القرآن)
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
نیز کئی احادیث میں اس فعلِ بد پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں، ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرِ کرم فرمائیں گے ۔ اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے )۔”
ماخذ: (شعب الإيمان 7/ 329، حدیث نمبر 10565)
شعب الإيمان (7/ 330) میں ہے۔
یہ تمام دلائل اس بات پر متفق ہیں کہ مشت زنی گناہِ کبیرہ ہے۔ یہ گناہِ کبیرہ سے بچنے کے طریقے جاننا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
مشت زنی سے بچاؤ کے مؤثر طریقے اور وظائف
مشت زنی سے بچنا ایک مضبوط ہمت اور پختہ ارادے کا متقاضی ہے۔ یہ عادتاً گناہ کا فعل ہوتا ہے، لہٰذا اس سے چھٹکارا پانے کے لیے عملی تدابیر کے ساتھ ساتھ روحانی وظائف بھی بہت مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔
1. فوری شادی اور ازدواجی تعلقات کا فروغ
سب سے پہلے فرض لازم یہ ہے کہ آپ جلد از جلد شادی کرے۔ شادی نہ کرنا یا لیٹ کرنا بڑی گناہ ہے جو انسان کو ایسی عادات میں مبتلا کر سکتا ہے۔ حرام کاموں سے بچنے کا طریقہ میں سے یہ سب سے اہم ہے۔ شادی کے لیے مجرب وظیفہ جاننے۔
2. وسوسوں کا علاج اور ذکر الٰہی
گناہ، وہم اور وسوسے کا سب سے کار گر علاج یہی ہے کہ اس کی طرف بالکل بھی توجہ نہ دی جائے۔ نیز وسوسوں کو دور کرنے کے لیے درج ذیل اذکار بکثرت پڑھیں
- “أعوذ بالله سميع العليم من الشیطان الرجیم”
- ” أَعُوْذُ بِاللهِ الْعَظِيْمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيْمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ”
- ارشادِ ربانی ہے: ﴿وَاِمَّا یَنْزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللهِ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾ [الأعراف: 200] ترجمہ: “اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تو اللہ کی پناہ طلب کرلیا کریں، بلاشبہ وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔” (الاعراف : ٢٠٠)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی وسوسوں کے بارے میں شکایت کرنے والے صحابہ کرام کو یہی ہدایت فرمائی
” تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر کہتا ہے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ یہ بھی کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب اس حالت کو پہنچ جائے تو اللہ کی پناہ طلب کرے اور باز آجائے۔”
ماخذ:(صحیح بخاری، حدیث نمبر 3276 اور صحیح مسلم، حدیث نمبر 134)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “شیطان تم میں سے کسی کے پاس آتا ہے تو کہتا ہے کہ اس طرح کس نے پیدا کیا؟ اس طرح کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ تو جب وہ یہاں تک پہنچے تو اللہ سے پناہ مانگو اور اس وسوسہ سے اپنے آپ کو روک لو۔”
ماخذ:(مشکوٰۃ المصابیح (1/ 26)، حدیث نمبر 60)
ایک اور حدیث میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے پوچھتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا؟ تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ تو جو آدمی اس طرح کا کوئی وسوسہ اپنے دل میں پائے تو وہ کہے: “آمَنت بِاللَّه وَرُسُله” (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا)۔”
ماخذ:(مشکوٰۃ المصابیح (1/ 26)، حدیث نمبر 61)
لہٰذا جب کوئی برا خیال یا وہم ذہن میں آئے تو مذکورہ کلمات پڑھنے کے ساتھ خود کو کسی دوسرے کام میں مشغول کرلیا کریں، اس خیال کی طرف بالکل توجہ نہ دیں۔
3. دیگر مؤثر اذکار اور اعمال
ان وسوسوں کے علاج کے لیے مذکورہ نسخہ نبوی ﷺ پر عمل کیا جائے، اور ساتھ ساتھ یہ اعمال بھی کریں
- “أعُوذُ بِالله” پڑھیں ۔
- “اٰمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِه” کا ورد کرے۔
- “هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْم”
- نیز “رَّبِّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِ وَاَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ” کا کثرت سے ورد بھی ہر طرح کے شیطانی شکوک و وسوسوں کے دور کرنے میں مفید ہے۔
4. صبر، روزہ، اور استغفار کی اہمیت
مشت زنی کے گناہ سے بچنے کے لیے مضبوط ہمت اور پختہ ارادہ چاہیے۔
- اس کے ساتھ ساتھ کسی اللہ والے کی صحبت اختیار کیجیے جو روحانی رہنمائی فراہم کر سکے۔
- نیز کثرت کے ساتھ سید الاستغفار پڑھتے رہیں۔ سید الاستغفار یہ ہے: (اللھم أنت ربی لاالہ الا أنت،خلقتنی وأنا عبدک ،وأنا علی عھدک ووعدک مااستطعت، أعوذبک من شر ما صنعت ، أبوء لک بنعمتک علی وأبوء بذنبی ،فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا أنت) ترجمہ: “اے اللہ تو ہی میرا رب ہے، تیرے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جس قدر طاقت رکھتا ہوں، میں نے جو کچھ کیا اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اپنے آپ پر تیری نعمت کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے کیونکہ تیرے علاوہ کوئی گناہوں کو نہیں بخش سکتا۔” ماخذ: (صحیح مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث نمبر 2656)
- اور ہر نماز کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر سات مرتبہ (یا قوی القادر المقتدر قونی وقلبی) پڑھیں، ان شاء اللہ ٹھیک ہوجائیں گے۔
- روزہ رکھیں: روزہ شہوت کو توڑنے اور گناہوں سے بچنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
- بری سوچ اور فلموں سے پرہیز: گندی سوچوں اور غیر اخلاقی فلموں/ویڈیوز سے مکمل پرہیز کریں کیونکہ یہ شیطان کے وسوسوں کا دروازہ کھولتی ہیں۔ یہ مشت زنی سے مکمل چھٹکارا پانے کے لیے ضروری ہے۔
السلام علیکم!
میں نے نکاح کیا ہے ایک لڑکی سے ابھی میں شادی کیلیے مکمل تیار ہوں گھر بھی بنالیا سب کچھ تیار کیا ہے اب وہ لڑکی کے بہنیں کہتی ہیں کہ 3 یا 4 سال بعد شادی دینی ہے ہم نے میں حیران ہوں مجھ سے ایک گھنٹہ بھی انتظار نہیں ہوتا، دن میں دو سے تین مرتبہ غلط کام کرتا ہوں خدا کی قسم خودکشی کو دل کررہا ہے لیکن وہ بھی نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ کائنات کا لعنتی اور غلیظ انسان ہوں میں تو فرشتے اور زمین بھی نفرت کرتی ہوگی مجھ سے ۔۔۔ واللہ راستہ ہی نہیں معلوم کہ آخر کروں کیا۔۔۔ دل میں سوچتا ہوں فرعون نمرود شداد اور یزید بھی ہزار درجہ مجھ سے اچھے تھے۔۔۔
بس سب بھائیوں بہنوں سے دعا کی درخواست ہے، اور علماء سے خصوصی درخواست ہے کہ خدا اور رسول کا واسطہ لوگوں کو شادی کی ترغیب دیں۔ جزاک اللہ خیر
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
بھائی آپ مایوس نہ ہو اللہ کی رحمت سے۔ آپ پنجگانہ نمازوں کے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچنے کے لیے روزانہ 1000 مرتبہ استغفار پڑھے لیا کریں، اور اس قبیح فعل سے توبہ کریں۔ اگر شہوت کا غلبہ زیادہ ہو تو روزہ رکھ۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت آپ کو نیک صالح بنائے اور اپکو مقرب بندہ بنائیں اور اللہ آپ کو گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
مسلمان ہوتے ہوئے خود کو لعنتی اور فرعون اور نمرود کو خود سے اچھا سمجھنا درست نہیں، ہاں یزید مسلمان ہیں وہ اچھے ہوسکتے ہیں۔ہاں زمین اور فرشتے گناہ کی وجہ سے نفرت کرتےہیں، تو ہر حال میں انصاف والی بات کہنی چاہیے، مایوسی ان سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔