عاریت پر لی ہوئی زمین پر مکان بنانا

Reviewed Updated May 3, 2026 26

Question

میری خالہ نے میرے پلاٹ پر مجھ سے اجازت لے کر ایک کمرہ بنایا اس پر سات لاکھ خرچہ کیا اور اب تک اس کے استعمال میں ہے، میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر میرے پاس پیسے آئے تو میں ادا کروں گا لیکن میرے پاس اب پیسے نہیں اور وہ مانگ رہی ہے، تو کیا اس کا پیسوں کا مطالبہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زمین کسی کو عاریت پر دے دے تاکہ وہ اس پر تعمیر کرے، تو مالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت اپنی زمین واپس لے، اور اگر چاہے تو مستعیر (عاریت پر لینے والے) کو عمارت گرانے اور زمین فارغ کرنے کا کہے، البتہ مستعیر کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ مالکِ زمین کو تعمیر کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرے۔ صورت مسئولہ کے مطابق مالکِ زمین کو پیسے دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں، بلکہ مستعیر (عاریت پر لینے والے) کو چاہئے کہ اس کے مالدار ہونے تک انتظار کرے یا اپنا کمرہ گرا کر اس کا ملبہ اپنے استعمال میں لائے۔   إذا استعار من آخر أرضا ليبني فيها أو يغرس فيها ثم بدا للمالك أن يخرجه فله ذلك...وإذا قلع ونقض لا يضمن المعير شيئا من قيمة الغرس والبناء، كذا في البدائع...وإن طلب المستعير أن يضمن المعير قيمة البناء والغرس مقلوعا فإنه لا يجبر على ذلك ويكلفه القلع.(الفتاوى الهندية،كتاب العارية،ج:4،ص:370) فتویٰ نمبر : 6632/297/328 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2026-05-03 کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام)

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy