بہو کو مہر میں کچھ دینے کے بعد دوبارہ واپس لینے کا مطالبہ کرنا

Reviewed Updated November 4, 2025 25

Question

ایک شخص نے اپنی بہو کے حق مہر میں گھر کا کچھ حصہ لکھ دیا تھا ،پھراس نے  گھر کو بیچ کر  اس حصے کی قیمت بہو کو حوالہ کی ،اب وہ شخص بیٹے سے ناراضگی کی وجہ سے  بہو سے وہ قیمت واپس مانگ رہا ہے،تو کیا اس کے لیے اس  کا مطالبہ درست ہے؟

Answer

واضح رہے کہ بیوی کو مہر دینا شوہر کی ذمہ داری ہے ،البتہ اگرشوہر کا والد اپنی طرف سے بیٹے   کی بیوی کو مہر میں کچھ دیدے ،تو یہ اس کی طرف سے  تبرع اور ہبہ شمار ہوتا ہے ،جو قبضہ کرنے کے بعد بہو کی ملکیت شمار ہوگی ،اس لیے اس  کو واپس لینے کا حق  نہیں۔ صورت مسئولہ کے مطابق اگر واقعی کسی نے اپنی بہو کو حق مہر میں گھر کا حصہ لکھ دیا تھا ،اور پھر اس  کی قیمت بہو کو حوالہ کی اور بہو  نے اس پر قبضہ بھی کرلیا ،تویہ رقم اس عورت کی ملکیت بن چکی ہےلہذا  اس سے  واپس لینے کا مطالبہ جائز نہیں۔   ( وصح ضمان الولي مهرها ولو ) المرأة ( صغيرة ) ولو عاقدا لأنه سفير( وتطالب أيا شاءت ) من زوجها البالغ أو الولي الضامن ( فإن أدى رجع على الزوج إن أمر ).(الدر المختار شرح تنوير الأبصار،كتاب النكاح ،باب المهر ج:4،ص:286) (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (قوله: بالقبض) ‌فيشترط ‌القبض ‌قبل ‌الموت، ولو كانت في مرض الموت للأجنبي كما سبق في كتاب الوقف كذا في الهامش. (ردالمحتارمع الدرالمختار،كتاب الهبة،ج5،ص690) فتویٰ نمبر : 7300/297/324 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور تاریخ تصدیق : 2025-11-04 کتاب النکاح مہرکے احکام

Share: WhatsApp Facebook Telegram X Copy